تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 86

سَالِمًا کَثِیْرًا کہ حِسَابًا کے معنے یہ ہیں کہ جو کچھ ملے گاوہ کافی ہو گا بلکہ ضرورت سے زیادہ ہو گا اور سالم ہوگا یعنی کسی قسم کانقص اُس میں نہیں ہوگا۔کَثِیْرًا اور وہ پھر بہت ہوگا۔چنانچہ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں تَقُوْلُ الْعَرَبُ اَعْطَا نِیْ فَاَحْسَبَنِیْ اَیْ کَافَانِیْ یعنی اہل عرب کہتے ہیں اَعْطَانِیْ فَاَحْسَبَنِیْ اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس شخص نے مجھے اتنا دیا کہ میری سب ضرورتوں کو پورا کر دیا۔پھر کہتے ہیں وَمِنْہُ حَسْبِیَ اللّٰہُ اَیِ اللّٰہُ کَافِیَّ اسی سے حَسْبِیَ اللّٰہ نکلاجس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔عَطَآءً حِسَابًا سے مراد پہلے سے وعدہ دی گئی عطاء لیکن حِسَابًا کے اس جگہ ایک اور معنی بھی ہیں اور وہ یہ کہ انہیں ایسی عطا ملے گی جو حساب میں پہلے ہی موجود تھی یعنی مومن جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو یہ یہ جزا ملے گی کیونکہ خدا نے مجھے بتا یا ہوا ہے کہ اس کی طرف سے فلاں فلاں نعمتیں ملیں گی۔گویا یہاں حِسَابًا کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسی عطا جوپہلے ہی حساب میں آئی ہوئی تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی پیشگوئیوں میںذکر کیا ہوا تھا اور جس کے متعلق مومن یہ امید رکھتا تھا چونکہ خدا نے اپنی پیشگوئیوں میں اس کا ذکر کیا ہوا ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہ باتیں ایک دن پوری ہوں اور کافر بھی علم رکھتا تھا کہ مسلمانوں کے متعلق یہ یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔پس چونکہ اس عطا کے ساتھ ایک پیشگوئی کا بھی تعلق تھا جس پر مومن بھی ایمان رکھتا تھا اور کافر کو بھی اس کاعلم تھا اس لئے عَطَاءً کے ساتھ حِسَابًا کا لفظ بڑھا دیا۔میرے نزدیک عَطَائً حِسَابًا سے مراد وہی عطا ہے جو حساب میں آچکی تھی یعنی جس کا ذکر ہو چکا تھا جس کا مومن کو بھی علم تھا اور کافر کو بھی علم تھا یہاں عَطَاء کی تعداد مراد نہیں بلکہ اس سے عَطَاء کے ملنے کا وعدہ مراد ہے۔جیسے کہتے ہیں فلاں چیز تو محسوب ہو چکی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ چیز ہمارے ریکارڈ میں آچکی ہے۔اسی طرح عَطَآءً حِسَابًا کا یہ مطلب ہے کہ وہ سرکاری دیوان میں لکھی ہوئی عطاء ہو گی جس کی پہلے سے پیشگوئی موجود تھی اور جس کا دوست کو بھی علم تھا اور دشمن کو بھی علم تھا۔رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا يَمْلِكُوْنَ (تیرے اس رب کی طرف سے جو) آسمانوںاور زمین اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب ہے مِنْهُ خِطَابًاۚ۰۰۳۸ (اور) بے حد کرم کرنے والا ہے۔وہ اس کے حضور میں (بلا) اجازت بات کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔حل لغات۔خِطَابًا: خِطَاب خَاطَبَ کا مصدر ہے۔کہتے ہیں خَاطَبَہٗ بِالْکَلَامِ مُخَاطَبَۃً