تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 79
ہے جو کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے کہ جیسے اُس قوم کے مردوں میں جوش ہو ویسا ہی اُس قوم کی عورتوں میں جو ش ہو۔جیسی چند عورتیں بہادر اور دلیر اور قوم کیلئے قربانی کا مادہ اپنے اندر رکھنے والی ہوں ویسی ہی تمام عورتیں بہادر اور دلیر اور قربانی کا مادہ رکھنے والی ہوں بلکہ ایک سے ایک بڑھ کر ہو۔یہ حقیقی انعام ہے جس سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں۔دنیا میں انسان کو بُزدلی کی طرف لے جانے والی عورت ہی ہوتی ہے مرد دین کے لئے باہر جانا چاہتا ہے تو عورت اس کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے اور کہتی ہے تم مجھے کہاں چھوڑے جارہے ہو تمہارے بغیر میرا کون سہارا ہے۔پھر کبھی وہ بچوں کو اس کے سامنے لاتی ہے اور کہتی ہے اِن بچوں کو کون پوچھے گا۔اس پر مرد کا دل بھی بے چین ہو جاتا ہے اور اس کے ارادہ میں تذلزل پیدا ہوجاتا ہےلیکن جب عورت اس کی ہمت بندھاتی ہے جب وہ اسے جرأت اور دلیری کا سبق دیتی ہے۔جب وہ کہتی ہے کہ شاباش جائو اور خدا کے دین کا کام کرو تو مرد کا دل بڑھ جاتا ہے اور وہ پوری بے فکری سے دینی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ عورتیں دینی لحاظ سے بلند معیار پر قائم ہوں اور سب میں دین کا یکساں جوش اور قربانی کی یکساں روح پائی جاتی ہو۔مسلمانوں کی عورتوں کے کواعب و اتراب ہونے کے ثبوت اس جرأت اوربہادری کا نمونہ جن عورتوں نے دکھایا ان کی مثالوں سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے۔انہوں نے اسی رُوح سے کام لیتے ہوئے بعض دفعہ اپنے مردوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم میدان جنگ سے بھاگوگے تو پھر ہمارے پاس نہ آنا۔تاریخوں میں آتا ہے کہ جب جنگ یرموک میں یک دم عیسائی لشکر نے کثیر تعداد اور بھاری سامان کے ساتھ حملہ کیا تو اسلامی لشکر مقابلہ کی تاب نہ لا کر وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔اُس وقت مسلمان عورتوں نے خیمے توڑ کر اُن کی لکـڑیاں ہاتھوں میں سنبھال لیں اور مسلمان سپاہیوں کے گھوڑوں کے مونہوں پر مار مار کر ان کو واپس دشمن کے لشکر کی طرف لوٹا دیا۔ان عورتوں میں سے ایک ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بھی تھی جو کسی زمانہ میں اسلام کی شدید ترین دشمن رہ چکی تھی۔مسلمان پیچھے ہٹنے والے سپاہیوں میں ا بو سفیان اس کا خاوند بھی شامل تھا اور معاویہ اس کا بیٹا بھی۔چنانچہ جب لشکر بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو ابو سفیان جو لشکر کے اس حصہ کا سردار تھا اُس کی بیوی ہند نے اس کے گھوڑے کو خیمے کی لکڑی سے مار کر واپس کیا اور کہا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت میںتو پیش پیش ہوتا تھا اب اسلام قبول کر کے میدان جنگ سے کیوں بھاگتا ہے۔تمہار ا تو یہ فرض ہو نا چاہیے کہ تم نے اسلام کی شرک کی حالت میں مخالفت کی تھی اس کو دھو ڈالو اور اپنی جان پر کھیل جائو۔چنانچہ اُس نے اور باقی سپاہیوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو کہا کہ واپس لوٹو۔دشمن کی تلواروں سے مسلمان عورتوں کے ڈنڈے زیادہ سخت ہیں۔یہ سُن کر لشکر واپس لوٹا اور آخر