تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 71
مدینہ منوّرہ میں پورے ہوئے۔اور پھر صرف مدینہ منوّرہ ہی نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے بعد سارا عرب اور پھر ساری وسطی دنیا اس پیشگوئی کی صداقت کا ایک نشان تھی کہ کس کس طرح یہ لوگ با مراد ہوئے اور کس کس طرح انہوں نے کامیابیاں حاصل کیں۔ہر قوم جو اُن کے مقابلہ میں اُٹھی اُسے شکست ہوئی۔ہرطاقت جو مسلمان سے ٹکرائی وہ ذلیل ہوئی۔قیصر وکسریٰ کے خزانے فتح ہوئے اور وہ ان مسلمانوں کو ملے۔مدینہ منورہ ایک چھوٹی سی بستی تھی جہاں گھر میں بھی باامن طور پر رہنے کا کوئی سامان نہ تھا۔چنانچہ اسی لئے مسلمان یہود سے مختلف معاہدات کرتے رہے تاکہ وہ غداری نہ کریں اور مسلمانوں کے ضعف کا موجب نہ بنیں۔مگر وہ چھوٹی سی بستی ایک دن ساری دنیا کا مرکز بن گئی۔اگر مدینہ منورہ سے کوئی حکم نکلتا تھا تو ساری دُنیا کانپ اُٹھتی تھی۔اور وہ سمجھتی تھی کہ اس حکم کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔پھر مدینہ منورہ ہی وہ بستی تھی جہاں ایک دن قیصر و کسریٰ کے خزائن آئے اور مسلمانوں میں تقسیم ہوئے یہاں تک کہ اسی مدینہ میں کسریٰ کے سونے کے کنگن ایک صحابی سراقہ بن مالکؓ کے ہاتھوں میں پہنائے گئے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ ہجرت کے سفر میں اُن سے کہا تھا میں تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھتا ہوں۔جب کسریٰ کی حکومت تباہ ہوئی اور اُس کے سونے کے کنگن مدینہ میں آئے تو حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے جبری طورپر اس صحابی کے ہاتھ میں سونے کے کنگن ڈالے(الاصابہ فی تمییز الصحابۃ الجزء الثالث ذکر سراقۃ بن مالک ) اب کجا مدینہ منورہ جو ایک چھوٹی سی بستی تھی اور کجا کسریٰ کے سونے کے کنگن جو ایک غریب صحابی کے ہاتھوں میں پہنائے گئے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ مَفَازَ کا لفظ ہلاکت سے نجات کی جگہ کے معنوں کے رُو سے تو حبشہ اور مدینہ پر صادق آتا ہے لیکن دوسرے معنوں یعنی کامیابی کے معنوں کے رُو سے مدینہ ہی مَفَازثابت ہوا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایاتھا کہ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا تو اس کے معنے یہ تھے کہ میں تم کو مدینہ منورہ دینے والا ہوں جو مقام فوز ہے اور اس آیت میں گو ہجرت اُولیٰ کی بھی پیشگوئی تھی مگر زیادہ وضاحت اور شان سے ہجرت ثانیہ کی پیشگوئی تھی۔ایک یوروپین مصنف مدینہ کی اس حالت کو دیکھ کر ایسا متاثر ہوا ہےکہ وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے تم کچھ کہہ لو محمد صلے اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو۔لیکن میں تو جب یہ بات دیکھتا ہوں کہ مدینہ میں ایک چھوٹی سی مسجد میں جس پر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی ہوئی ہے جب بارش ہوتی ہے تو اس میں سے پانی ٹپک پڑتا ہے نماز پڑھتے ہیں تو اُن لوگوں کے گھٹنے اور ماتھے کیچڑ سے لت پت ہو جاتے ہیں۔اُس مسجد میں ننگی زمین پر بیٹھے ہوئے ایسے آدمی جن کے نہ سروں پر ٹوپیاں ہیں نہ اُن کے تن پر پورا لباس ہے دنیا کو فتح کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں ا ور وہ اس یقین اور