تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 69

ظاہر ہوا وہ حبشہ ہے۔چنانچہ حبشہ میں خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کی تائید کا کیسا زبردست نشان ظاہر ہوا۔دشمن نے چاہا کہ حبشہ پہنچ کر بھی مسلمانوں کو مبتلائے آلام کرے اور اُنہیں اس ملک میں بھی آرام اور چین سے نہ رہنے دے۔مگر وہ خدا جس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ متّقیوں کو ہر قسم کی مکروہات سے بچا کر ایسے مقام پر لے جائے گا جو اُن کے آرام اورسکون کا موجب ہو گا اُس نے کفّارِ مکّہ کو اپنی اس کوشش میں ناکام کیا اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق حبشہ میں نہایت آرام اور عزت کے ساتھ رہے۔چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے جب مسلمان حبشہ کی طرت ہجرت کر کے گئے تو عمرو بن العاص اور مکہ کا ایک اور رئیس عبداللہ ابن ابی ربیعہ دونوں حبشہ گئے۔ان کو مکّہ والوں نے اس غرض کے لئے مقرر کیا تھا کہ تم جائو اور حبشہ کے بادشاہ سے یہ عرض کرو کہ یہ لوگ ہمارے بھاگے ہوئے غلام ہیں اگر آپ ان کو پنا ہ دیں گے تو ہمارے تعلقات آپ سے اچھے نہیں رہیں گے۔یہ لوگ حبشہ گئے اور اپنے ساتھ وہ بڑے بڑے تحفے بھی لے گئے جو اُن کی قوم کے لوگوں نے بادشاہ اور اُس کے وزراء اور پادریوں وغیرہ کے لئے دئیے تھے اور کہا تھا کہ یہ تحفے بادشاہ کو دینا۔یہ وزراء کے سامنے پیش کرنا اور یہ پادریوں وغیرہ کو دینا۔چنانچہ یہ لوگ بڑی شان کے ساتھ حبشہ پہنچے اور ہر ایک کے سامنے انہوں نے تحائف پیش کئے پہلے تو بادشاہ نے بڑا اعزاز کیا مگر جب انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ لوگ ہمارے ملک میںسے بھاگے ہوئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ واپس بھیج دیا جائے اوراس کی سفارش بادشاہ کے وزراء نے بھی کی۔مگر بادشاہ نے کہا۔کہ جب تک وہ مسلمانوں کو بلا کر اُن کے حالات دریافت نہ کرلے وہ کسی کو اپنے ملک سے نہیں نکال سکتا۔چنانچہ بادشاہ نے مسلمانوں کو بلوایا اور پوچھا کہ آپ لوگوں کے کیا عقائد ہیں؟ تب مسلمانوں کے نمائندہ جعفر بن ابی طالب نے قرآن کریم کی چند آیات پڑھیں جن میں اسلامی عقائد کا ذکر آتا تھا اور یہ بھی کہ مسلمان حضرت مسیح ؑ کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں بادشاہ نے وہ آیات سن کر کہا کہ میں تو ان عقائد میں کوئی بری بات نہیں دیکھتا۔دوسرے دن پھر دونوں سردار قریش دربار میں آئے اور کہاکہ اے بادشاہ! یہ مسلمان مسیح کی ہتک کرتے ہیں تب اُس نے مسلمانوں کو طلب کیا اور اُن کا جواب سُننے پر دربار میں اُس نے ایک تنکا اُٹھایا اور اُسے اُٹھا کر کہنے لگا جو کچھ ان لوگوں نے حضرت مسیح ؑکے متعلق بیان کیا ہے مَیں اُس سے ایک تنکے کے برابر بھی مسیح ؑ کو زیادہ نہیں سمجھتا اُن کا وہی رتبہ سمجھتا ہوں جو انہوں نے بیان کیا ہے۔اِس پر اُس کے درباری بہت چیں بچیں ہوئے۔لیکن بادشاہ نے کہا جب میرا باپ مرا تھا مَیں بچہ رہ گیا تھا۔تم لوگوں نے میرے چچا کے ساتھ مل کر چاہا کہ اس حکومت پر قبضہ کر لو۔تب خدا نے اپنے فضل سے مجھے طاقت بخشی اور اُس نے تم کو شکست دے کر مجھے اس تخت پر بٹھا دیا۔جس خدا نے مجھ کو اس بیکسی کی حالت میں بادشاہت کے تخت پر بٹھا دیا اور