تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 3

مگر وہ یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ آیا دوسرے کو بھی وہ معنے معلوم ہیں یا نہیں۔یہ سوال بھی بلاواسطہ عدمِ علم پر ہی دلالت کرتا ہے کیونکہ گو اس کو ان معنوں کا علم تو ہوتا ہے مگر اُسے یہ علم نہیں ہوتا کہ دوسرے کو بھی اس کا علم ہے یا نہیں۔لیکن کبھی سوال اظہارِ تعجب کے لئے بھی ہوا کرتا ہے جیسے بعض دفعہ بیٹا اپنے باپ کی گستاخی کرے تو باپ اُسے کہتا ہے تمہیں پتہ ہے میں کون ہوں؟ یعنی تمہیں اتنی سمجھ تو ہونی چاہیے کہ میں تمھارا باپ ہوں اور باپ کا ادب کرناضروری ہوتا ہے یا آقا اپنے غلام کو یا افسر اپنے ماتحت کو کہتا ہے تم جانتے ہو مَیں کون ہوں؟ اب اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے۔پھر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہوتا کہ تم نہیں جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔بلکہ اس موقع پر سوال کرنے والا یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کون ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ بھی جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ جس سے سوال کیا جاتا ہے وہ بھی جانتا ہے اور باوجود اس کے کہ جو سوال کرنے والا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ میرا مخاطب اس سوال کا جواب جانتا ہے پھر بھی وہ سوال کرتا ہے۔تو درحقیقت یہ سوال ایک قسم کے تعجب کے اظہار کے لئے ہوتا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم کو پتہ ہے کہ حقیقت کیا ہے پھر باوجود علم ہونے کے تم کیوں غفلت کر رہے ہو یا باوجود پتہ ہونے کے تم پوچھ کیوں رہے ہو یا اختلاف کیوں کر رہے ہو۔اور کبھی اسی تعجب کی صورت میں تفخیم کے لئے یعنی اس چیز کی عظمت کے اظہار کے لئے بھی سوال کیا جاتا ہے۔عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ کے فقرہ میں سوال کی وجہ یہاں بھی درحقیقت مخفی معنے تعجب کے ہی ہیںگو یہاں تفخیم کا پہلو بھی نمایاں ہے۔جیسے میں نے ابھی ایک مثال دی ہے کہ بعض دفعہ سوال کرتے ہوئے کہا جاتا ہے تم جانتے ہو میں کون ہوں اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میری جو کچھ شان اور عظمت ہے اُس سے تم بخوبی واقف ہو۔قرآن کریم چونکہ خدا کا کلام ہے اس لئے یہاں نہ تو یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ خدا نہیں جانتا۔نہ دوسرے معنے ہو سکتے ہیں کہ خدا کو یہ شک ہے کہ میرا مخاطب جانتا ہے یا نہیں جانتا پس تیسرے ہی معنے ہیں جو خدا کے متعلق چسپاں ہو سکتے ہیں اور وہی معنی اس جگہ پر لئے جائیں گے جیسا کہ اگلی آیت نے اس کو ظاہر بھی کر دیا ہے۔پس عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں تعجب ہے کہ بغیر کافی غور اور فکر کے یہ لوگ ایک ایسے امر کے متعلق سوال کرتے ہیں جس کے حقائق ظاہر ہیں۔گویا ایک طرف تو اس سوال میں مسئلہ کی بڑائی پر زور ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ مسئلہ بہت ہی اہم ہے اور اس کے حقائق بالکل ظاہر ہیںاور دوسری طر ف وہ لوگ جن کے متعلق یہ فقرہ کہا گیا ہے اُن کی عقل پر اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ باجود اس مسئلہ کے دلائل موجو دہونے کے پھر بھی وہ شبہات میں پڑے ہوئے ہیں۔