تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 540

الصلوٰۃ والسلام کو بھی بار بار یہ الہام ہوا ہےکہ اِنِّی مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً (تذکرۃ صفحہ ۲۴۲)یعنی مَیں اپنی افواج کے ساتھ اچانک آئوں گا۔بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ۰۰۲۲ (اس کے علاوہ) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ (کلام جو ان امور کی خبر دے رہا ہے) ایک بزرگ (ہر جگہ اور ہر زمانہ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍؒ۰۰۲۳ میں) پڑھا جانے والا کلام ہے اور (مزید کمال یہ ہے کہ) وہ لوحِ محفوظ میں ہے۔حَلّ لُغَات۔لَوْحٌ۔لَوْحٌ کے معنے ہیں کُلُّ صَحِیْفَۃٍ عَرِیْضَۃٍ خَشْبًا اَوْ عَظْمًا۔لکڑی یا لوہے کی چَوڑی تختی۔اور لوح کو لوح اس واسطے کہتے ہیں کہ اس پر لکھنے کی وجہ سے معانی ظاہر ہوتے ہیں(اقرب) (چونکہ لَاحَ یَلُوْحُ کے معنے جس سے لوح بنا ہے۔ظاہر ہونے کے تھے اس لئے مصنّف نے وجۂ مناسبت اصل مادہ سے بیان کر دی)۔تفسیر۔فرماتا ہے یہ لوگ تو پُرانے مکذّبین سے بھی اپنے عناد اور مخالفت میں بڑھ رہے ہیں مگر ہم کہتے ہیں یہ وہ کلام ہے جو بڑا بزرگ ہے۔یہ تکذیب میں زیادتی کرنی شروع کر دیں ہم اس کی تصدیق میں زیادتی کرنی شروع کر دیں گے۔گویا خدا صرف اتنی ہی غیرت نہیں دکھائے گا کہ دشمنوں کو تباہ و برباد کر دے بلکہ وہ یہ بھی کرے گا کہ اِس قرآن کو عزت کے مقام پر فائز کر دے گا اور دُنیا کی گردنیںاُس کے آگے جھکا دے گا۔بیشک یہ لوگ مخالفت کریں اور جتنی چاہیں کریں مگر خدا یہ ارادہ کر چکا ہے کہ وہ اس قرآن کو عزّت کے مقام پر کھڑا کرے گا کیونکہ یہ قرآن بڑی مجد والا ہے۔فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ محفوظ کی قرأت ظاء کی زیر سے بھی آئی ہے اور ظ کی پیش سے بھی۔یعنی مَحْفُوْظٌ بھی ہے اور مَحْفُوْظٍ بھی۔زیر کی صورت میں اِس جُملہ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ قرآن کریم ایک محفوظ لوح میں ہے اور پیش کی صورت میں محفوظٌ قرآن کریم کی صفت بنتا ہے اور جُملہ کے معنے یہ ہوئے کہ قرآن مجید لوح میں ہے اور محفوظ ہے۔ابو الفضل اور ابن خالویہ کہتے ہیں کہ لَوْحٌ لفظ نہیں بلکہ لُوْح لام کی پیش سے ہے اور اس کے معنے ساتویں