تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 541

آسمان کے اوپر کی فضا ءکے ہیں(فتح القدیر للشوکانی زیر آیت ھٰذا)۔یہ معنے بالبداہت باطل ہیں کیونکہ ساتویں آسمان پر گیا کون تھا کہ اُس نے وہاں کی فضاء دیکھی اور اُس کا ایک خاص نام رکھا۔صحاح جوہری کہتے ہیں کہ لُوْح لام کی پیش سے ہو تو اُس کے معنے آسمان اور زمین کے درمیان کی ہوا کے ہیں(فتح القدیر للشوکانی زیر آیت ھٰذا) یعنی جَوّ اور فضاء کے یہ معنے لغت کے ہیں اور اوپر کی تفسیر کے غلط ہونے پر شاہد ہیں۔ابن المنذر نے حضرت ابن عباسؓ کی طرف ایک روایت منسوب کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ لَوْح ذکر ایک ہی لوح ہے (یعنی جس قدر ذکر خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں سب اس میں درج ہیں) اور یہ لوح نور کی ہے اور تین سو سال میں ختم ہونے والے سفر کے برابر لمبی ہے۔(فتح القدیر للشوکانی زیر آیت ھٰذا) ابو الشیخ کہتے ہیں کہ انسؓ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں جس لوح محفوظ کا ذکر ہے وہ اسرافیل کے ماتھے میں ہے (فتح القدیر للشوکانی زیر آیت ھٰذا)اور امام سیوطیؒ حضرت عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لوح محفوظ سو سال کے سفر کے برابرلمبی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قلم سے دُنیا کے پیدا کرنے سے پہلے کہا میری مخلوق کے بارہ میں میرا علم لکھ اس پر اُس نے لکھا اور جو کچھ قیامت تک ہونا تھا وہ اس میں لکھا گیا۔مقاتل کہتے ہیں کہ لَوح محفوظ عرش کے دائیں طر ف رکھی ہے۔(ابن کثیر سورۃ الطارق)حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسرائیلیات ہیں اور یہود نے بھولے بھالے مسلمانوں سے بدلہ لیا ہے۔جیسا کہ حل لغات سے ظاہر ہے لوح ایک لکڑی یا ہڈی کی چوڑی سطح کو کہتے ہیں جس پر لکھا ہوا بہت واضح ہو جائے۔چنانچہ اسی مادہ کا فعل لَاحَ یَلُوْحُ ہے جس کے معنے ظاہر ہونے کے ہیں۔چونکہ کاغذ کا صفحہ لپیٹا جاتا ہے لیکن لکڑی لوہے یا ہڈی پر لکھی ہوئی کتاب لپیٹی نہیں جا سکتی اسے لوح کہتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو چیز لپیٹی نہ جائے گی اس میں ایک خوبی ہو گی اور ایک نقص۔خوبی تو یہ کہ ہر ایک اس کو پڑھے گا اور اس کی خوب اشاعت ہو گی اور نقص یہ کہ بوجہ کُھلی ہونے کے اس کے مٹانے یا اس میں تصرّف کرنے کا لوگوں کو زیادہ موقع مل سکے گا۔اسی مضمون کو بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس جگہ قرآن کریم کی نسبت بیان فرمایا ہے کہ وہ لوح محفوظ میں ہے یعنی قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ کثرت سے لوگوں کے ہاتھ میں جائے گا اور خوب پھیلے گا مگر ساتھ ہی وہ لوگوں کی دست بُرد سے محفوظ بھی رہے گا۔گویا لوح پر لکھے ہوئے کلام کی خوبی تو اس کو ملے گی مگر اس کے نقص سے وہ محفوظ رہے گا۔خ خ خ خ