تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 539
پھر جب پُوچھتا ہے تو وہ یہی کہتاہے کہ مَیں نہ مانوں۔تو مَیں نہ مانوں کا توکوئی علاج ہی نہیں ہوسکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اِس جگہ بیان فرمائی ہے کہ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ تَكْذِيْبٍ مخالفت میں بڑھتے بڑھتے ان لوگوں کی قلبی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ ان کے سامنے کوئی بھی نشان ظاہر ہو۔کوئی بھی معجزہ ظاہر ہو اِن کو اس بات سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی کہ وہ اس پر غور کریں۔صرف ایک ہی مقصد اُن کے سامنے ہوتا ہے کہ ہم اِس نشان کی تکذیب کریں۔پس یہ لوگ تو وہ ہیں جو تکذیب کے سمندر میں غرق ہو چکے ہیں۔وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ مُّحِيْطٌۚ۰۰۲۱ حالانکہ اللہ (اُنہیں)اُن کے پیچھے سے (آ کر)گھیرنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔مُحِیْطٌ۔مُحِیْطٌ اَحَاطَ کا اسم فاعل ہے اور اَحَاطَ بِالْاَمْرِ کے معنے ہیں اَحْدَقَ بِہٖ مِنْ جَوَانِبِہٖ۔کسی معاملہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا (اقرب) اور آیت مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ مُّحِيْطٌ کے معنے ہیں لَا یَعْجِزُہُ اَحَدٌ قُدْ رَتُہٗ مُشْتَمِلَۃٌ عَلَیْھِمْ یعنی خدا تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کی قدرت و طاقت اُن پر حاوی ہے۔نیز کہتے ہیں اُحِیْطَ بِہٖ اور معنے ہوتے ہیں۔اُس کی ہلاکت قریب آگئی۔(اقرب) پس مُحِیْطٌ کے معنے ہوں گے چاروں طرف سے گھیرنے والا۔تفسیر۔یہ تمسخر میں مشغول ہیں اور جب صداقت کے نشانات ظاہر کئے جاتے ہیں تو کہتے ہیں مَیں نہ مانوں۔لیکن وہ اس بات سے ناواقف ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی بداعمالیوں کے نتیجہ میں ایک خطرناک عذاب مقدّر ہے۔مُـحِیْط کے لفظی معنے احاطہ کرنے والے کے ہوتے ہیں لیکن محاورہ کے رو سے اسے عذاب کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے پیچھے سے اُن کا احاطہ کرنے والا ہے۔احاطہ کا لفظ عذابِ تام پر دلالت کرتا ہے۔رستہ کُھلا ہو تو انسان بھاگ سکتا ہے لیکن جب چاروں طرف سے احاطہ ہو تو بھاگنے کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔وَرَآئِھِمْ کے لفظ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب وہ عذاب آئے گا تو اُنہیں پتہ بھی نہیں لگے گا۔کیونکہ پیچھے سے جو چیز آتی ہے وہ اچانک آتی ہے۔پس فرمایا جب وہ عذاب اچانک طور پر آجائے گا تو چاروں طرف سے اُن کا احاطہ کر لیا جائے گا اور اُنہیں اُس عذاب سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ