تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 529

طرف سے سانپ اور بچھّو کاٹیں۔ہر گوشہ سے بجلی گرے۔ہر جگہ سے دُکھ ہو مگر ایمان متزلزل نہ ہو۔‘‘ (بدر ۱۷ ؍اکتوبر۱۹۰۷صفحہ ۸ و ۹) یہ وہ قربانی کی روح ہے جو جماعت احمدیہ میں پیدا ہونی چاہیے۔اور یہی وہ روح ہے جس کے قیام کے ساتھ قوموں کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اِس سورۃ میں ایک طرف تو منکرین کو توجہ دلائی ہےکہ تم بارہ صدیوں تک خدا تعالیٰ کے مجددین کو مانتے چلے آئے تھے اب تیرہویں مقام پر آکر تمہیں کیا ہو گیا کہ جب وہ موعود ظاہر ہوا جس کی خبر ہم دیتے چلے آئے تھے تو تم نے اُس کا انکار کر دیا اور دوسری طرف مومنوں سے کہا ہے کہ یاد رکھو تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں جلنا پڑے گا تب اسلام کی شان وشوکت کا دن طلوع کرے گا۔احمدیت کی سخت مخالفت کی پیشگوئی پس اِن آیات میں اُس مخالفت کی شدّت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو احمدیت کی آئندہ زمانہ میں ہونے والی ہے۔اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مومنوں کو عذاب دے دے کر دشمن مزہ اٹھائیں گے۔دو قسم کی تعذیبیں تعذیبیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تعذیب وہ ہوتی ہے جس کے بعد دل میں رحم کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیںچنانچہ مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے تو مجسٹریٹ اور سپاہی وغیرہ افسوس بھی کرتے جاتے ہیں مگر ایک تعذیب وہ ہوتی ہے جس کے بعد عذاب دینے والا خوشی محسوس کرتا ہے کہ مَیں نے جو کچھ کیا بہت اچھا کیا۔فرماتا ہے یہ معذّب تو ہوں گے مگر ساتھ ہی خوش ہوں گے کہ ہم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔گویا جلوس نکلیں گے اور اپنے اِس فعل پر بڑی خوشی منائی جائے گی جیسے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ پر پتھرائو کیا گیا مگر کسی کو رحم نہ آیا۔بادشاہ اور اُس کے درباری سب اکٹھے تھے اور کہتے تھے کہ اِسے خوب پتھر مارو۔گویا عذاب دینے کے لئے وہ اِس طرح خوش خوش اکٹھے ہوئے جیسے کوئی میلہ ہو رہا ہے۔وَ هُمْ عَلٰى مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُهُوْدٌ۔شَھُوْدٌ شَاھِدٌ کی جمع ہے اور شَھِدَ یَشْھَدُ شُھُوْدًا کے معنے ہوتے ہیںحَضَـرَ وہاں حاضر ہوا۔دوسرے معنے ہوتے ہیں اِطَّلَعَ عَلَیْہِ کسی امر سے واقف اور آگاہ ہوا۔یہاں شُھُوْدٌ کے معنے واقفوں کے بھی ہیں اور حاضر ہونے والوں کے بھی۔اور مطلب یہ ہے کہ وہ جانتے ہوئے کہ مومن بے گناہ ہیں اُنہیں عذاب اور دکھ دیں گے۔اسی طرح یہ معنے بھی ہیں کہ وہ عذاب دینے کے وقت خود بھی سامنے کھڑے ہوں گے اور اُن کے عذاب کا تماشہ دیکھیں گے اور اُن پر انہیںرحم نہ آئے گا۔