تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 528
گی وہ آخر فتحیاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے اُن پر کھولے جائیں گے۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مَیں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اُس کے ساتھ دُنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیںایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔‘‘ (الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۷،۳۰۸) آپؑ نے لوگوں کی ایسی غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا کہ اسلام اور احمدیت کو آپ ہی آپ ترقی حاصل ہو جائے گی۔اِس کے لئے کسی قربانی یا جدّوجہد کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔چنانچہ آپؑ نے فرمایا۔’’یاد رکھو! ہمارے پاس کوئی ایسی پھونک نہیں جس سے کوئی شخص یک دفعہ ابدال میں داخل ہو جائے سب انبیاء ؑکا اِس پر اتفاق ہے کہ ترقی ٔ مدارج کے لئے آزمائش ضروری ہے۔اور جب تک کوئی شخص آزمائش اور امتحان کی منازل طَے نہیں کرتا دیندار نہیں بن سکتا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ دکھ کے بعد ہی ہمیشہ راحت ہوا کرتی ہے۔یاد رکھو جو شخص خدا کی راہ میں دُکھ اور مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں وہ کاٹا جائے گا۔‘‘ ’’صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ پر غورکرو کہ انہوں نے دین کی خاطر کیسے کیسے مصائب اُٹھائے۔اور کن کن دُکھوں میں وہ مبتلاء ہوئے۔نہ دن کو آرام کیا نہ رات کو۔خدا کی راہ میں ہر ایک مصیبت کو قبول کیا اور جان تک قربان کر دی۔‘‘ ’’یاد رکھو! جب تک اخلاص اور صدق سے کوشش نہیں کرو گے کچھ نہیں بنے گا۔بہت آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ یہاںسے تو بیعت کر جاتے ہیں مگر گھر میں جا کر جب تھوڑی سی بھی تکلیف آئی یا کسی نے دھمکایا یا حقہ پانی بند کرنا چاہا تو جھٹ مُرتد ہو گئے۔ایسے لوگ ایمان فروش ہوتے ہیں۔صحابہؓ کو دیکھو کہ انہوں نے تو دین کی خاطر اپنے سر کٹوا دیئے تھے اور جان ومال سب خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔کِسی دشمن کی دشمنی کی اُنہیں پرواہ تک بھی نہ تھی۔وہ تو خدا کی راہ میں سب طرح کی تکالیف اُٹھاتے اور ہر طرح کے دُکھ برداشت کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہتے تھے۔اور انہوں نے اپنے دلوں میں فیصلہ کیا ہوا تھا۔ایمان وہ ہے کہ سارا جہان مخالف ہو جائے۔ہر