تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 512

اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ مگر وہ (لوگ) جو ایمان لائے۔اور انہوں نے مناسب حال عمل کئے۔ا نہیں ایک نہ ختم ہونے والا (نیک) غَيْرُمَمْنُوْنٍؒ۰۰۲۶ اجر ملنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔اَلْمَمْنُوْنُ اَلْمَمْنُوْنُ کے معنی ہیں اَلمَقْطُوْعُ کٹا ہوا (اقرب) پس غَیْرُ مَمْنُوْنٍ کے معنی ہوں گے غیر مقطوع۔تفسیر۔حضرت مسیح موعود کی ماتحتی کے بغیر کوئی روحانی ترقی نہیں کر سکتا اِس آیت کے وہی معنی ہیں جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں اشارہ فرمایا ہے کہ آیندہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی ولایت کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔مگر وہی جو میری جماعت میں شامل ہو گا۔اور میری اقتدا اور متابعت کا دم بھرے گا۔آیندہ زمانہ میں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی بھی مبعوث ہو گا۔تو اس کے لئے ضروری ہو گا۔کہ وہ مسیح موعود کے دروازہ میں سے گزرے۔بے شک شکل میں تبدیلی آ جائے گی۔مگر اس کا تعلق مسیح موعود سے منقطع نہیں ہو گا۔جس طرح محمدی نور کبھی منقطع نہیں ہوسکتا اسی طرح اس نور کا سلسلہ اب قیامت تک منقطع نہیں ہوسکتا۔اس میں شک نہیں یہاں مومنوں کی جماعت کا ذکرکیا گیا ہے۔مگر جماعت درحقیقت نبی کے تابع ہوتی ہے۔اور چونکہ مسیح موعود اب قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے مسیح موعود اور خدا کے رسول ہیں۔اس لئے اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ آیندہ جو بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرب ہونا چاہے گا۔اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ مسیح موعود کے واسطہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے۔اور مسیح موعود کے واسطہ سے ہی خدا تعالیٰ تک پہنچے۔اس کے بغیر کوئی انسان الٰہی برکات کو حاصل نہیں کر سکتا۔خ خ خ خ