تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 509
حضرت عیسٰی زندہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا سو آیتوں کا کیاسوال ہے۔آپ ایک آیت ہی پیش کر دیں۔تومیں ماننے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں دس آیتیں تو ضرور لا کر آپ کو دکھائوں گا۔اور یہ کہہ کر خوش خوش مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس گئے۔تاکہ قرآن سے ایسی آیتیں نکلوا لائیں۔مولوی محمد حسین صاحب ان دنوں لاہور میں تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی جموں سے چھٹی پر وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔اور وفات و حیات مسیح پر بحث کے لئے آپس میں شرائط کا تصفیہ ہو رہا تھا۔حضرت خلیفہ اول ؓ فرماتے تھے۔کہ اس مسئلہ کا قرآن سے فیصلہ ہونا چاہیے۔اور مولوی محمد حسین صاحب یہ کہتے تھے کہ حدیثیں بھی شامل ہونی چاہئیں۔آخر بڑی بحث اور ردّو کد کے بعد حضرت خلیفۂ اولؓ نے مان لیاکہ بخاری بھی شامل کر لی جائے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو فخر کرنے کی بہت عادت تھی۔حضرت خلیفۂ اولؓ نے جب ان کی اتنی بات مان لی۔کہ بخاری سے بھی تائیدی رنگ میں ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔مسجد میں بیٹھ کر انہوں نے لاف زنی شروع کر دی کہ مولوی نورالدینؓ نے یوں دلیل دی۔اور مَیں نے اسے یوں پکڑا۔اس نے اس طرح کہا۔اور مَیں نے اسے اس طرح گرایا۔اتنے میںمیاں نظام الدین صاحب بھی وہاں جا پہونچے۔اور کہنے لگے مولوی صاحب ان بحثوں کو چھوڑئیے مَیں مرزا صاحب کو منوا کر آرہا ہوں۔کہ اگر مَیں قرآن سے دس آیتیں ایسی نکال کر لے آئوں۔جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو۔تو وہ اپنے عقیدہ کو ترک کر دیں گے۔آپ مہربانی فرما کر مجھے جلدی سے ایسی دس آیتیں قرآن سے لکھ دیں۔تاکہ مَیں مرزا صاحب کے سامنے پیش کروں۔مولوی صاحب جو فخر ومباہات سے کام لے رہے تھے۔اور بار بار کہہ رہے تھے۔کہ میں نے مولوی نورالدینؓ کویوں رگیدا۔اسے اس طرح پکڑا۔اور اس طرح گرایا۔ان کے تو یہ بات سنتے ہی حواس اڑ گئے۔اور جوش میں کہنے لگے تجھے کس پاگل اور جاہل نے کہا تھا۔کہ تو اس معاملہ میں دخل دیتا۔مَیں دو مہینے بحث کر کے مولوی نورالدینؓ کو حدیث کی طرف لایا تھا۔تو پھر اس مسئلہ کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔یہ اتنا گندہ فقرہ تھا کہ میاں نظام الدین صاحب جو اپنے دل میں اسلام کی محبت رکھتے تھے۔اسے برداشت نہ کر سکے۔تھوڑی دیر تک حیرت سے ان کا مونہہ دیکھتے رہے۔اور پھر کہنے لگے مولوی صاحب اگر یہی بات ہے۔تو پھر جدھر قرآن ہے ادھر ہی میں ہوں۔چنانچہ وہ وہاںسے واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہو گئے (حیات احمد از یعقوب علی عرفانی صفحہ ۱۴۳ تا۱۴۵ )پس اس آیت کے ایک یہ بھی معنی ہیں کہ وہ بدری وجود قرآن پیش کرے گا۔مگر وہ اُسے ضعیف حدیثوں اور لوگوں کے اقوال کی طرف لانے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح اس کے