تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 508
گا۔اور تمام ظلمات کو پھاڑ دے گا۔وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕؑ۰۰۲۲ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جائے۔تو سجدہ نہیں کرتے۔حَلّ لُغَات۔یَسْجُدُوْنَ یَسْجُدُونَ یَسْجُدُ سے جمع کا صیغہ ہے۔اور سَجَدَ یَسْجُدُ کے معنی ہوتے ہیں خَضَعَ وَاَغْنٰی عاجزی کی اورعجز کا اظہار جھکنے سے کیا نیز کہتے ہیں سَجَدَتِ السَّفِیْنَۃُ لِلرِّیَاحِ اور معنی ہوتے ہیں طَاعَتْھَا وَمَالَتْ بِمَیْلِھَا۔کہ کشتی نے ہوا کی اطاعت کی۔اور جدھر ہوا کا رخ تھا۔ادھرچل پڑی (اقرب) پس یَسْجُدُوْنَ کے معنی ہوں گے۔وہ فرمانبرداری کرتے ہیں۔اور لَایَسْجُدُوْنَ کے معنی ہوںگے فرمانبرداری نہیں کرتے۔تفسیر۔لَا یَسْجُدُوْنَ کے دو معنے یہاں سجدہ کے دو معنی ہیں اوّل یہ کہ وہ فرمانبرداری نہیں کرتے۔دوسرے یہ کہ جب قرآن کا دوبارہ نزول ہو رہا ہے۔تو وہ کیوں اس شکریہ میں سجدہ نہیں کرتے۔اس میں یہ پیشگوئی مخفی تھی۔کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا۔جب قرآن دنیا سے مٹ جائے گا۔اور ایمان ثریا پر چلا جائے گا۔اس وقت ایک بدری وجود پھر قرآن کریم کو دنیا میں واپس لائے گا۔پھر اس قرآن کو پڑھا جائے گا پھر اس قرآن پر عمل شروع ہوگا۔پھر اس کے احکام کو تازہ کیا جائے گا۔فرماتا ہے۔یہ ہماری اتنی بڑی نعمت ہے۔کہ چاہیے تھا خدا تعالیٰ کے اس عظیم الشان فضل پر وہ سجدوں میں گر جاتے۔کہ انہیں ان کی کتاب واپس مل گئی۔ان کا روحانی خزانہ جو مدتوں سے ضائع ہو چکا تھا۔پھر ان کے گھروں میں واپس آ گیا۔مگر یہ لوگ ایسے ناشکر گزار ہیں کہ الٹا اس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ قرآن میں تحریف کر رہا ہے۔یا یہ معنی ہیں کہ وہ بدری وجود توقرآن پیش کرے گا مگر یہ لوگ بجائے قرآن کی فرمانبرداری کرنے کے اس کے سامنے حدیثوں یا ائمہ سلف کے اقوال کو پیش کریں گے۔قرآن کی طرف نہیں جائیں گے۔ہماری جماعت کے ایک دوست میاں نظام الدین صاحب کاایک مشہور واقعہ ہے۔جو میں نے بارہا سنایا ہے۔کہ وہ ابھی بیعت میں شامل نہیں تھے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر میں قرآن کریم کی سو آیتیں ایسی نکلوا کر لے آئوں۔جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو۔تو کیا آپ مان جائیں گے کہ