تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 503

کتاب فضائل اصحاب النبی باب فضائل اصحاب النبی ) یعنی میرے بعد تین صدیوں تک کا زمانہ تواچھا ہے لیکن پھر خرابیاں پھیل جائیں گی۔گویا آپ نے ابتدائی تین صدیوں کو خیر وبرکت والا قرار دیا ہے۔پس یہ تین صدیاں تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے سورج کی۔اِس کے بعدسورج غائب ہوا۔اور شفق کا زمانہ شروع ہوا۔یعنی وہ زمانہ جب نور اور ظلمت ابھی ملے ہوئے تھے۔پھر وہ زمانہ آیا۔جب رات نے اپنی ساری تاریکیوں کو جمع کر لیا۔اس جگہ ایک اورلطیفہ بھی یاد رکھنے والا ہے۔اور وہ یہ کہ جبکہ شفق کا وقت بہت کم ہوتا ہے۔اور وہ عام طور پر رات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے شفق کو الگ کیوں بیان کیا۔اسکی وجہ یہ ہے۔کہ اسلام میں شفق کے زمانہ کو ایک خصوصیت حاصل ہونے والی تھی۔اور وُہ یہ کہ عام طور پر شفق کا وقت چھوٹا ہوتا ہے۔اور رات کا لمبا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت سے خدا تعالیٰ کا یہ معاملہ مقدرتھا۔کہ ان کے لئے شفق کا زمانہ لمبا ہو اور رات کا چھوٹا اور اس طرح شفق کا وقت اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت اختیار کر لے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے بعد ایسا ہی ہوا مسلمانوں میں ہمیشہ ایسے لوگ کھڑے ہوتے رہے جنہوں نے شفق کا کام کیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور کو دنیا سے غائب ہونے نہیں دیا۔درحقیقت بارہویں اور تیرہویں صدی ہی اصل میں تاریک راتیں تھیں۔اگرچہ غور کرنے سے ان میں بھی کچھ نہ کچھ شفق کا زمانہ نظر آ جاتا ہے۔وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ اور رات جب وہ وساق اختیار کر لے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ شفق وسق تک چلی جائے گی۔اِس میں جہاں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نہیں مٹے گا بلکہ مسلمان اس نور سے مونہہ پھیر لیں گے۔وہاں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔کہ جب وہ رات آئے گی تو اتنی تاریک اور بھیانک ہو گی۔کہ وہ تمام چیزیں جو رات کو مکمل بناتی ہیں۔ان کو وہ اپنے اندر جمع کر لے گی۔جب رات کامل طور پر دنیا میں چھا جاتی ہَے۔تو اس میں چوریاں بھی ہوتی ہیں۔ڈاکے بھی پڑتے ہیں۔قتل بھی ہوتے ہیں سانپ بھی نکلتے ہیں۔بِچھو بھی باہر آجاتے ہیں۔اور اندھیرا بھی اس طرح چھا جاتا ہے۔کہ کوئی چیز نظر نہیں آتی۔پس وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ میں بتایا کہ وہ فتنہ بڑا شدید ہو گا۔اور وُہ ساری چیزیں اس میں جمع ہو جائیں گی۔جو رات کو مکمل رات بنانے والی ہوتی ہیں۔شفق لیل اور قمر کو بطور شہادت پیش کرنے کا مطلب فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرَ اِذَااتَّسَقَ یہ تین آیات اپنے مطلب کو اس قدر واضح کر دیتی ہیں کہ مفسرین کا یہ نتیجہ نکالنا ان میں تدریج بتائی گئی ہے۔بالکل