تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 502
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے بعد مسلمانوں پر آنے والے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سراج منیر کہا جا چکا ہے۔اور سراج منیر جب غروب ہو گا۔تو لازماً ایک شفق کی حالت پیدا ہو گی۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ یعنی مَیں شہادت کے طور پرپیش کرتا ہوں تمہارے سامنے اس زمانہ کو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جائے گا۔شفق کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ شفق کے وقت بھی سورج موجود ہوتا ہے اور رات کے وقت بھی سورج موجود ہوتا ہے قمر کے وقت بھی سورج موجود ہوتا ہے۔لیکن وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔جب اوپر کی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے تنزل کی طرف اشارہ فرمایا۔تو کسی انسان کا ذہن اس طرف بھی جا سکتا تھا۔کہ شائد اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت ناکارہ ہو جائے گی فرماتا ہے ناکارہ نہیں ہو گی بلکہ وہ شفق اور لیل کا زمانہ ہو گا۔اور شفق اور لیل کے وقت سورج مٹ نہیں جاتا وہ موجود ہوتا ہے۔مگر لوگ اِس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ان الفاظ کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ تنزلِ اسلام تنزلِ محمدیت کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ تنزل مسلمین کی وجہ سے ہو گا۔کسی قوم کا تنزل دو سببوں میں سے کسی ایک سبب سے ہوا کرتا ہے۔یا تو لیڈ ر بگڑ جاتا ہے۔اور اس کی وجہ سے قوم بگڑ جاتی ہے۔اور یا لیڈر تو صحیح حالت پر قائم رہتا ہے۔مگر قوم اس سے مونہہ پھیر لیتی ہے۔یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام میں جو تنزل کی خبریں دی گئی ہیں۔وہ تنزل اور انحطاط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بگڑنے کی وجہ سے نہیں ہو گا۔بلکہ مسلمانوں کے بگڑنے کی وجہ سے ہو گا۔اور وہ آپ سے دُور جا پڑیں گے۔اور اس طرح نور ہدایت حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔جیسے شفق اور لیل سورج کے مٹ جانے کی وجہ سے نہیں آتیں۔بلکہ زمین کے سورج سے اوجھل ہو جانے کی وجہ سے آتی ہیں۔اِس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے۔کہ زمین چکر کھاتی ہے۔کیونکہ اگر سورج کو چکر والا سمجھا جاتا تو یہ مثال غلط ہو جاتی۔تب یہ معنی بنتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نعوذ باللہ بھاگ گئے۔حالانکہ خدا یہ بتا تا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہیں بھاگے۔بلکہ تم بھاگے۔پس یہ مثال اسی صورت میں صحیح طور پر چسپاں ہو سکتی ہے جب ہم یہ سمجھیں کہ زمین چکّر کھاتی ہے۔شفق سے مراد یہ شفق کا زمانہ اس وقت سے شروع ہوا جس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا تھا خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَھُمْ قَوْمٌ یَخُوْنُوْنَ وَلَا یُؤْتَمنُوْنَ وَیَشْھَدُوْنَ وَلَا یُسْتَشْھَدُوْنَ وَیَنْذُرُوْنَ وَلَا یَفُوْنَ وَیَظْھَرُ فِیْھِمُ السِّمَنُ (بخاری