تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 501

کہتے ہیں کہ اِس سے مراد یہ ہے کہ چاند تیرھویں رات کا ہو گیا۔تفسیر۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم مندرجہ بالا تین آیتوں کو دیکھتے ہیں۔تو ان میں تین حالتیں بیان کی گئی ہیں۔اول حالت یہ بتائی گئی ہے کہ ہم تمہارے سامنے شفق کی حالت کو پیش کرتے ہیں۔شفق جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے یقینی اور قطعی طور پر سورج کے ڈوب جانے کے بعد اتنے عرصہ کا نام ہے۔جب روشنی اور سُرخی ابھی باقی ہوتی ہے۔اور وَسَقَ کے معنی جمع کرنے کے بتائے جا چکے ہیں۔پس وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ کے یہ معنی ہوئے کہ رات جب وہ اپنی ساری کیفیتوں کو جمع کر لیتی ہے۔آخر رات لکڑیاں جمع نہیںکیا کرتی۔کہ یہ خیال کیا جائے کہ نہ معلوم رات کیا کچھ جمع کر لے گی۔ہر چیز اپنے اندر بعض خاص صفات رکھتی ہے۔اور جب ساری صفات اس میں جمع ہو جائیں تو وہ مکمل ہو جاتی ہیں پس وَالَّیْلِ وَمَاوَسَقَ کے یہ معنی ہوئے کہ رات جب اکٹھا کر لیتی ہے یعنی ان ساری صفات کو جو رات کو کامل رات بنانے والی ہیں اپنے اندر جمع کر لیتی ہے وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ اور ہم چاند کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جب وہ تیرھویں یا چودھویں رات کا ہو جائے گا۔جس طرح رات نے اپنی ساری چیزوں کو جمع کر لیا تھا۔یعنی اندھیرا اور خاموشی اور دوسری چیزیں جو رات سے وابستہ ہیں۔اسی طرح چاند اپنی ساری طاقتوں کو جمع کرلے گا اور چاند اپنی ساری طاقتوں کو چودھویں رات میں ہی جمع کیا کرتا ہے۔مفسرین نے اس جگہ یہ معنی کئے ہیں کہ یہاں اس کی تدریج بیان کی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اِس طرح تدریجی طور پر ترقیات ہوا کرتی ہیں۔اوربعضوں نے یہ معنی کئے ہیں کہ ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کی ترقی کا ذکر ہے۔لیکن یہ آیات بالبداہت اِس خیال کو ردّ کرتی ہیں۔اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ظلمتِ شب میں نازل ہوئے تھے وہاں شفق کا سوال ہی کو نسا تھا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تو خدا تعالیٰ نے سورج قرار دیا ہے۔اور یہاں قمر کا ذ کر ہے۔اور قمر وہ ہوتا ہے جو دوسرے سے نور لیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کب قمر تھے کہ اس کے بعد بدر بن گئے۔آپ تو سور ج تھے۔پس یہ معنی قلّت تدبر کا نتیجہ ہیں۔بات یہ ہے کہ پہلی سورتوں میں بتایا گیا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کُفر دنیا پر چھا جائے گا۔جیسے سورۂ تکویر اور تطفیف وغیرہ میں ذکر تھا اور اِ س سورۃ میں جیسا کہ مَیں نے بیان کیا ہے اسلام کی ترقی کا ذکر ہے کفر کا نہیں۔گو کفر کا ذکر ساتھ ہے مگر ان سورتوں میں کفر کا ذکر اصل تھا اور اسلام کا ذکر تابع تھا اور اس سورۃ میں اسلام کا ذکر اصل مقصد ہے اور کفر کا ذکر اس کے تابع ہے۔جیسے اَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ سے استدلال کر کے بتایا جا چکا ہے پس جب اسلام کی دوبارہ ترقی کا ذکر کیا گیا۔تو لازماًیہ سوال پیدا ہوتا تھا۔کہ اسلام کا تنزل کب ہو گا۔اِس لئے اللہ تعالیٰ ان سارے تغیرات کا ذکر کرتا ہے۔جو