تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 500
وَالْاِطِّرَادُ کہ اتسقاق کے معنی ہیں۔اجتماع اور اطراد اور اطراد کے معنی ہیں کوئی چیز دوسری چیز کے پیچھے آئی۔اور ٹھیک ہو گئی۔چنانچہ کہتے ہیں اِطَّرَدَ الْاَمْرُاَیْ تَبِعَ بَعْضُہٗ بَعْضاً وَاسْتَقَامَ۔اِطراد کے معنی ہوتے ہیں کِسی چیز کے سارے حصے جمع ہو کر وہ کام ٹھیک ہو گیا۔(المنجد) فرّاء اِتَّسَقَ کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔کہ اِتَّسَاقُہُ اِمْتَلَاءُہَ واجْتَـمَاَعُہٗ وَاسْتِوَائُ ہٗ لَیْلَۃَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ وَرَابِعَ عَشْرَۃَ اِلٰی سِتِّ عَشْرَۃَ وَھُوَ اِفْتَعَلَ مِنَ الْوَسَقِ الَّذِیْ ھُوَ الْجَمْعُ (تفسیر القرطبی سورۃ انشقاق زیر آیت ۱۶ تا ۲۱ )یعنی اتساق کے معنی چاند کے پورا روشن ہو جانے اور مکمل ہو جانے کے ہیں۔جو تیرھویں رات سے سولہویں رات تک ہوتا ہے۔وُہ یہ بھی کہتے ہیں۔کہ یہ وَسَقَ کے لفظ سے باب افتعال ہے جس کے معنے جمع کرنے کے ہوتے ہیں۔حسن بصری کہتے ہیں کہ اِتَّسَقَ کے معنی ہیں اِمْتَلَأَ وَاجْتَمَعَ بھر گیا۔اور اکٹھا ہو گیا۔قتادہ کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں اِسْتِدَارَ گول ہو گیا وَیُقَالُ اَمْرُ فُلَانٍ مُتَّسِقٌ اَیْ مُجْتَمِعٌ (فتح البیان زیر آیت ھذا)عرب کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا معاملہ متسق ہے۔یعنی بالکل ٹھیک ہے۔(فتح البیان) ابن کثیر میں ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِذَااجْتَمَعَ وَاسْتَویٰ ابن عباس کہتے ہیں کہ اِتَّسَقَ کے معنے ہیں جمع ہو گیا اور درست ہو گیا۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا) وَکَذَا قَالَ عِکْرَمَۃُوَمُجَاھِدٌ وَسَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَمَسْرُوْقٌ وَاَبُوْصَالِحٍ وَالضَّحَاکُ وَابْنُ زَیْدٍ اِذَا اتَّسَقَ اِذَااسْتَوَیٰ یعنی عکرمہ۔مجاہد۔سعید بن جُبیر۔مسروق۔ابو صالح۔ضحاک اور ابن زید نے بھی اِذَااتَّسَقَ کے یہ معنی کئے ہیں۔کہ اِذَااسْتَویٰ یعنی جب پورا پورا ہو گیا۔اور ٹھیک ہو گیا وَ قَالَ الْحَسَنُ اِذَااجْتَمَعَ اِذَا امْتَلَأَ حسن بصری سے یہ بھی معنی مروی ہیں کہ وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ کے معنے ہیں بھر گیا۔اور روشنی مکمل ہو گئی وَقَالَ قَتَادَۃُ اِذَا اسْتَدَارَ۔قتادہ کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اس کی گولائی پوری ہو گئی۔وَمعْنٰی کَلَامِہِ اَنَّہٗ اِذَاتَکَامَلَ نُوْرُہٗ وَاَبْدَرَ۔(ابن کثیر زیر آیت ھذا) ابن کثیر کہتے ہیں کہ قتادہ کا مطلب یہ ہے کہ اتساق کے معنی یہ ہیں۔کہ جب چاند کا نور پورا ہو گیا۔اور وہ بدر بن گیا۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِکے معنے پرانے مفسرین کے نزدیک اور اس کی تردید علامہ آلوسی اپنی تفسیر فتح البیان میں لکھتے ہیں کہ اِتَّسَقَ: اِجْتَمَعَ نُوْرُہٗ وَصَارَ بَدْرًا یعنی اِتَّسَقَ کے معنے یہ ہیں۔کہ اس کا نور مکمل ہو گیا۔اور وہ بدر بن گیا۔(روح المعانی زیر آیت ھٰذا) صاحب کشّاف اِتَّسَقَ کے معنوںمیں لکھتے ہیں کہ اِجْتَمَعَ وَاسْتَوَیٰ لَیْلَۃَ اَرْبَعَۃَ عَشَرَ یعنی اِس کے معنی یہ ہیں کہ چاند نے اپنے نور کو مکمل کر لیا اور وہ چودھویں رات کا ہو گیا۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِتَّسَقَ اِسْتَویٰ وَعَنْہٗ قَالَ لَیْلَۃَ ثَلَاثَ عَشَرَ (تفسیر کشاف زیر آیت ھذا)ابن عباس بھی اِتَّسَقَ کے معنی اِسْتَویٰ کے کرتے ہیں۔اور