تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 495

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ۰۰۱۵ (اور) یقین رکھتا تھا کہ فراخی کے بعد کبھی اسے تنگی نہ آئے گی۔حَلّ لُغَات۔حَارَ۔حَارَ یَحُوْرُ (حَوْرًا وَحُؤُوْرًا) کے معنی ہوتے ہیں رَجَعَ واپس لوٹا۔حَارَتِ الْفُصَّۃُ حَوْرًا کے معنی ہوتے ہیں اِنْحَدَرَتْ کَاَنَّھَا رَجَعَتْ مِنْ مَوْضِعِھَا گلے میں پھنسنے والی چیز نیچےاتر گئی۔گویا اپنی جگہ سے ہٹ گئی اور حَارَ فَلَانٌ حَوْرًا کے معنی ہوتے ہیں۔تَـحَیَّرَ وہ متحیر ہو گیا۔اور عربی میں محاورہ ہے کہتے ہیں حَارَ بَعْدَ مَاکَارَ اسی طرح ایک روایت میں ہے۔نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ اَیْ مِنَ النُّقْصَانِ بَعْدَ الزِّیَادَۃِ یعنی خوشی کے بعد غم۔فائدہ کے بعد نقصان اور سکھ کے بعد دکھ سے ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں (اقرب) گویا حَوْرٌ کے معنی ہیں حالت کا بدلنا۔پس اِنَّہٗ ظَنَّ اَنْ لَنْ یَّحُوْرَ کے یہ معنے ہوئے کہ وہ یہ خیال کرتا تھا وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئے گا۔یا اس کی ا چھی حالت بُری حالت کی طر ف نہیں لوٹے گی۔یا یہ کہ وہ کبھی بھی ایسی مشکلات سے دو چار نہیں ہو گا۔کہ وہ متحیر ہو کر رہ جائے۔یا یہ کہ اسے نقصان کبھی نہیں پہنونچے گا۔تفسیر۔اکثر تباہیاں دنیا میں اس خیال کے ماتحت آتی ہیں۔کہ بہت لوگ جب ان کو کوئی کامیابی یاترقی یا بلندی حاصل ہوتی ہے۔تو سمجھ لیتے ہیں۔کہ اب اس کے بعد تنزل کی حالت کبھی نہیں آئے گی۔جس کی وجہ سے وہ تنزّل سے بچنے کے لئے تیاری نہیں کرتے۔قومیں ترقی کر جاتی ہیں۔تو وُہ آئیندہ کے لئے تنزل کے رستے مسدود کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب تنزل کا وقت آتا ہے۔تو پھر انہیں واپس لوٹنے کا موقعہ نہیں ملتا۔الٰہی قانون یہی ہے کہ جس جہت پر گاڑی چل رہی ہو سٹیم کے ختم ہونے کے بعد بھی کچھ دیر گاڑی اسی طرف چلتی رہتی ہے اور یہی چیز قوموں کے دھوکے کا موجب ہوجاتی ہے۔اگر قومی سٹیم کے ختم ہوتے ہی یکدم ترقی کی گاڑی رک جائے۔تو علاج کی طرف توجہ پیدا ہو جائے لیکن سٹیم بند ہو جاتی ہے اور گاڑی چلتی رہتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت قومی بربادی کا احساس ہوتا ہے۔جب اس کا علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۶ مگر ایسا تو (ضرور) ہونا تھا۔کیونکہ اس کا رب اسے یقیناً دیکھ رہا تھا۔تفسیر۔فرماتا ہے ایسے انسان کا یہ خیال درست نہیں حقیقت تو اس کے خلاف ہے۔یقیناً اس کا رب اس کو