تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 494
خوشی کی بات نہیں ہو سکتی۔کیونکہ خوشی کی بات ظاہر کی جاتی ہے۔اور رنج والی چیز چھپائی جاتی ہے۔کیونکہ اس کے لئے بھی یہ بات رنج کا موجب ہو گی۔اِس لئے اسے پیٹھ کے پیچھے سے کتا ب دی جائے گی۔جسے دیکھ کر وہ جلد ی ہی اپنے لئے ہلاکت طلب کرے گا۔یَدْعُوْا ثُبُوْرًا کے معنی ہیں یَدْعُوْا ثُبُوْرًا لِنَفْسِہٖ یعنی وہ اپنے نفس کے لئے ہلاکت طلب کرے گا۔یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ خدائی گرفت اتنی سخت ہو گی۔کہ یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا والا نظارہ نظر آ جائے گا۔اور وہ کہے گا کاش میں مر جائوں اور اس انجام کو نہ دیکھوں۔یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہلاکت خدا نہیں بھیجتا بلکہ بندہ اپنے اعمال کی وجہ سے اس کاخود مورد بنتا ہے۔پس عذاب دینے والا خدا نہیں بلکہ بندہ اپنے اعمال سے اس عذاب کو اپنی طرف بلاتا ہے۔وَ يَصْلٰى سَعِیْرًا اور وہ ایک بھڑکنے والی آگ میں داخل ہو گا۔دنیا کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے۔کہ وُہ جلن اور فکر اور غم میں مبتلا کیا جائے گا اور آخرت کے لحاظ سے معنی ظاہر ہی ہیں۔اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۴ وہ اپنے اہل وعیال میں خوب خوش رہا کرتا تھا۔تفسیر۔فرماتا ہے یہ وُہ شخص ہے جو اپنے اہل میں بہت مسرور ہوا کرتا تھا۔پہلی آیات میں آیا تھا کہ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا یعنی محنت اور کوشش اور کدح کی وجہ سے چونکہ مومن کو اپنے گھر میں آرام اور چین سے بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا تھا۔اس لئے جب اسے بدلہ ملے گا۔تو يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا وہ اپنے اہل کی طرف خوش خوش جائے گا۔کہ میں کامیاب و بامراد واپس آ گیا۔لیکن کافر چونکہ اپنے گھر میں عیش و آرام سے بیٹھا رہتا تھا۔خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کوئی کام نہ کرتا تھا۔اس لئے جب نتیجہ نکلے گا۔تو وہ سخت غمگین ہو گا۔اس سے معلوم ہوا کہ مومن اپنے کام کو غم سے شروع کر تا اور خوشی پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور کافر خوشی سے شروع کرتااور غم پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔