تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 493
اپنے اہل کا پتہ ہی نہیں ہو گا۔کہ وہ کہاں ہے۔پھر ضروری نہیں کہ اس کے اہل میں جتنے افراد ہوں وہ سارے جنتی ہوں۔ہو سکتا ہے ان میں سے بعض دوزخی ہوں۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ حساب کے بعد وہ اسی وقت اپنے اہل کی طرف جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ مومن مرد کے اہل وعیال کو بھی اس کے ساتھ ہی رکھے گا۔مگر یہ بعد میں ہو گا۔یہ نہیں کہ ادھر حساب ہو رہا ہو۔اور ادھر اس کا اہل جنت میں اس کے ساتھ جانے کے لئے وہاں آن موجود ہو۔وہاں تو ایسی کیفیت ہو گی۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر تم نے مجھے وہاں تلاش کرنا ہو۔تو اس اس نشان کے ذریعہ سے کرنا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تلاش کے لئے علامتوں کی ضرورت ہو گی۔تو ایک عام مومن کو اپنا اہل کس طرح فوراً مل سکے گا۔پس يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا کے الفاظ بتارہے ہیں کہ یہ اس دنیا کا واقعہ ہے یعنی دین کے لئے محنت کرنے والا محنت کرے گا۔اور پھر اچھے نتائج حاصل کر کے اپنے اہل کے پاس خوش و خرم واپس آئے گا۔وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۱فَسَوْفَ يَدْعُوْا اور جس کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سےاس کا اعمال نامہ دیا جائے گا وہ جلد ہی (اپنے مونہہ سے اپنی)ہلاکت کو ثُبُوْرًاۙ۰۰۱۲وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ۰۰۱۳ بلائے گا۔اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا۔حَلّ لُغَات۔اَلثَّبُوْرُ۔الثَّبُوْرُ اَلْھَلَاکُ وَالْفَسَادُ یعنی ثبورکے معنے ہلاکت اور فساد کے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔پیٹھ کے پیچھے سے کتاب دئیے جانے سے مراد وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖ۔اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے کام ہمیشہ پیچھے ڈالتا رہتا ہے کہتا ہے آج نہیں کل کروں گا۔کل آتا ہے تو کہتا ہے پرسوں کروں گا۔غرض وہ جواپنی پیٹھ کے پیچھے کام کو پھینکتا چلا جائے گا۔اسے پیٹھ کے پیچھے سے کتاب دی جائے گی۔۔جس نے دائیں ہاتھ کو کام میں لگائے رکھا تھا۔اس کے تو دائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی۔لیکن جو روز بروز اپنے کام کو پیچھے ڈالتا چلا جائے گا۔اسے پیٹھ کے پیچھے سے کتاب دی جائے گی۔فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا جس شخص کی پیٹھ کے پیچھے سے کتاب آئے گی۔صاف بات ہے کہ اس کے لئے کوئی