تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 491

پس يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ اے جماعتِ مومنین کے ہر فرد تم میں سے ہر شخص کو اس راستہ میں اپنے آپ کو فنا کر دینا پڑے گا۔تب تمہیں قومی طور پر خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آئے گا۔اور اس کے لقاء کی نعمت تمہیں میسّر آئے گی۔اور یہی نعمت حقیقی نعمت ہوتی ہے۔ورنہ انفرادی طور پر توہر زمانہ میں لوگ خدا تعالیٰ کو پاتے رہتے ہیں۔لیکن انفرادی طور پر خدا تعالیٰ کو پا لینے سے قوم کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔قومی طور پر اسی وقت خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہوتا ہے اور قوم کا ہر فرد خدا تعالیٰ کا چہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔جب ہر فرد اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کےقرب کے راستوں میں فنا کر دیتا ہے۔اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹتا۔جب تک اِس نعمتِ عظیمہ کو حاصل نہیں کر لیتا۔مُلٰقِيْهِ میں ضمیر جزاء کی طرف بھی جا سکتی ہے مُلٰقِيْهِ کی ضمیر جزا کی طرف بھی جا سکتی ہے۔مگرجو معنی اس وقت مَیں کر رہا ہوں۔اس لحاظ سے خدا کا ملنا زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔گو جزا کی طرف بھی اس کی ضمیر جا سکتی ہے۔فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖۙ۰۰۸فَسَوْفَ يُحَاسَبُ پس جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔اس سے تو جلد ہی آسان حساب لے لیا جائے گا۔حِسَابًا يَّسِيْرًاۙ۰۰۹وَّ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۰ اور وُہ اپنے اہل کی طرف خوش (بخوش) لوٹے گا۔تفسیر۔دائیں ہاتھ میں کتاب دئیے جانے سے مراد کام کرنے کے لئے ہمیشہ دایاں ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے۔چونکہ پچھلی آیت میں کدح کا لفظ استعمال فرمایا تھا۔اس لئے یہاں یہ بتایا کہ ساری ترقی دائیں ہاتھ کے چلانے میں ہے۔اگر تم دایاں ہاتھ چلاتے جائو گے تو جیت جائو گے۔ان دو آیات میں ساری تحریک جدید کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔کہ محنت و مشقت برداشت کرنا اور ہاتھ سے کام کرنے کا عادی ہوناانسان کو اپنی زندگی میں کامیاب بنا دیتا ہے۔فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا کے یہی معنی ہیں کہ اس شخص کا حساب آسان لیا جائے گا۔یعنی مشکلات اور تکالیف کے آنے پر وہ کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرے گا۔کیونکہ مشقت برداشت کرتے کرتے وہ ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہو گا اور اسے مشکلات بھی آسان معلوم ہوں گی۔جو شخص نکمّا سست اور عیاش ہو وہ ذرا سی