تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 45
میں پھرو اور دیکھو کہ خدا کی باتیں کس طرح پوری ہوئیںوَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِاور تم دیکھ لو کہ خدا کا حکم جو اسلام کے غلبہ کے متعلق تھا وہ پورا ہو گیا ہے یا نہیںوَاَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکٰفِرِیْنَ اور اللہ کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ اور اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ حج اکبر کے دن۔یعنی خدا نے اس اعلان کے لئے حجِ اکبر کے دن کومخصوص کیا ہے تا کہ سارے عرب کو یہ اعلان سنایا جاسکے۔یُوں اگر اعلان کر دیا جاتا تو چار ماہ میں بھی سارے عرب میں نہ پہنچ سکتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اعلان کے لئے حجِ اکبر کا دن تجویز فرما دیا۔اس فیصلہ سے فَسِیْحُوْا فِیْ الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ کا حکم بھی پورا ہو گیا۔کیونکہ حج کے موقع پر عرب کے ہر علاقہ سے لوگ آتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے حج کے دن کا انتخاب اسی حکمت کے ماتحت فرمایاکہ جب لوگ حج سے واپس جائیں گےتو اس اعلان کے ساتھ ہی وہ اپنی آنکھوںسے یہ بھی دیکھتے چلے جائیں گےکہ اسلام کا ہر علاقہ میں غلبہ ہو گیا ہے۔درحقیقت یہ بھی اسلامی تعلیم میں رحم کے غلبے کاثبوت ہے کہ اعلان اُس وقت کیا گیا جب سارے لوگ موجود تھے اور اعلان یہ کیا گیا کہ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اللہ مشرکوں کے الزام سے پاک ہے۔وہ اس عظیم الشان غلبہ کے بعد جس کا ظہور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اللہ تعالیٰ پر یہ الزام نہیںلگا سکتے کہ سورۃ نباء میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ پوری نہیں ہوئی وَرَسُوْلُہٗ اور رسول بھی اِس الزام سے بری ہے فَاِنْ تُبْتُمْ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے بہترہے وَ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔اور اگر تم پھر جائو تو یاد رکھو جب تم پہلے ہمیں عاجز نہیں کرسکے تو آئندہ کس طرح کرسکو گے۔اس کے بعد فرماتا ہے اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ سوائے ان لوگوں کے جن سے مشرکوں میں سے تم نے عہد کیا ہے پھر انہوں نے تم سے معاہدہ میں خلاف ورزی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کی پس اُن سے جو عہد کیا ہے اُسے مقررہ معیاد تک نبا ہو اللہ تعالیٰ متقیوں کو پسند فرماتا ہے۔یہ دلیل ہے میرے اُن معنوں کے درست ہونے کی جو ابھی میں نے بیان کئے ہیں۔وہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھاکہ بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَگویا عہد کے باجود اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے کہا تھا کہ مکّہ میںسے نکل جائو مگر یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا ہواہے اورانہوں نے اِس معاہدہ کو توڑا نہیں اُن کے معاہدہ کو دیانتداری کے ساتھ پورا کرو اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ معاہدہ اَور ہے اور یہ معاہدہ اَور ہے۔اِلَّا الَّذِيْنَ