تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 480
سورۂ انفطار کو بھی آسمان کے لفظ سے شروع کیا گیا تھا۔اور اس سورۃ کو بھی آسمان کے لفظ سے شروع کیا گیا ہے۔اس جگہ آسمان کے ایسے پھٹنے کا ذکر کیا گیا تھا۔جو خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے اور اس سورۃ میں آسمان کے ایسے پھٹنے کا ذکر کیا گیا ہے۔جو خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرتا ہے۔پس یہ سورۃ اپنی پہلی تین سورتوں سے مل کر اسلام کے دوسرے غلبہ اور اس سے پہلے کی خرابیوں اور تلخیوں کے ذکر پر مشتمل ہے۔اَور ہر سورۃ میں ایک نیا رنگ اختیار کیا گیا ہے۔سورۂ انشقاق میں بھی آخری زمانہ کا ذکر ہے۔مگر اس طرح کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ آسمانی علوم کو ظاہر کرے گا اور زمین ان کو قبول کرے گی۔گویا پہلی سورۃ میں آسمان پھٹنے سے مراد مسیحیت کے غلبہ کا ذکر تھا اور اِس سورۃ میں آسمان کے پھٹنے سے مراد علومِ آسمانیہ کا ظہور یا آسمانی بارش کا نزول ہے۔اِسی وجہ سے اَذِنَتْ لِرَبِّهَا کے لفظ بعد میں رکھے گئے ہیں۔جس میں بتایا ہے۔کہ اس جگہ آسمان کا پھٹنا اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں ہے۔اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ۰۰۲ جب آسمان پھٹ جائے گا۔حَلّ لُغَات۔اِنْشَقَّتْ اِنْشَقَّتْ اِنْشَقَّ سے مؤنث کا صیغہ ہے۔اور اِنْشَقَ شَقَّ سے باب انفعال ہے اور شَقَّ الشَّیْءَ شَقًّاکے معنے ہوتے ہیں۔صَدَعَہٗ وَفَرَّقَہٗ اس کے اندر شگاف کر دیا۔اور اس کو الگ الگ کر دیا۔چنانچہ اسی سے یہ محاورہ ہے۔کہ شَقَّ عَصَا الْمُسْلِمِیْنَ اَیْ فَرَّقَ جَمْعَھُمْ وَکَلِمَتَہُمْ اس نے مسلمانوں کے عصا کو پھاڑ دیا۔یعنی ان کی جمعیت اور اتحاد کو پراگندہ کر دیا۔اور شَقَّ نَابُ الْبَعِیْرِ اَوْ نَابُ الصَّبِیِّ وَشَقَّ الصُّبْحُ شُقُوْقًا کے معنی ہوتے ہیں طَلَعَ دانت نکل آئے یا صبح ظاہر ہوگئی اور شَقَّ النَّبْتُ شُقُوْقًا اس وقت کہتے ہیں جب پہلی روئیدگی زمین میں سے پھوٹتی ہے۔(اقرب) اور جب صرف شَقَّ الْعَصَا کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ وہ جماعت سے الگ ہو گیا۔اور شَقَّقَ بھی انہی معنوں میں آتا ہے۔کہتے ہیں شَقَّقَ الْحَطَبَ شَقَّہٗ اُس نے لکڑی چیری۔اور اِنْشَقَّ الشَّیْءُ کے معنی ہوتے ہیں۔اِنْفَتَحَ فِیْہِ فُرْجَۃٌ وَاِنْصَدَعَ کسی چیز میں شگاف ہو گیا۔اور اِنْشَقَّ الْاَمْرُ کے معنی ہوتے ہیں۔اِنْفَرَقَ وَتَبَدَّدَ اِخْتِلَافًا تفرقہ پیدا ہو گیا۔اور افتراق کی وجہ سے اس میں پراگندگی پیدا ہو گئی۔اور اِنْشَقَّ الْفَجْرُ کے معنی ہوتے ہیں طَلَعَ فجر ہو گئی۔اور اِنْشَقَّ الْبَرْقُ کے