تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 44

چلے جائو۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔ایک ایسے عظیم الشان غلبے کا دن آنےوالا ہے جو یَوْمُ الْفَصْل ہو گا۔وہ نہ صرف عام فیصلے کا دن ہو گا بلکہ یَوْمُ الْفَصْل ہو گا یعنی وہ فَصْلٌ بَیْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ ہی نہ ہوگا بلکہ فَصْلٌ بَیْنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُؤْمِنِیْنَ بھی ہوگا۔چنانچہ سورۂ بَرَآءَ ۃٌ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےبَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔مشرکوں میں سے جن سے عہد کیا گیا تھا کہ ایک دن ایسا آنےوالا ہے جب مسلمانوں کو تم پر غلبہ حاصل ہو جائے گاتُم اُن کے مقابلہ میں بالکل ذلیل اور حقیر ہو جائو گے تمہیں وہ مکّہ میں بھی نہیں رہنے دیں گے بلکہ کہیں گے کہ تم یہاں سے چلے جائو اور اُس وقت تم ذلّت اور رسوائی کی حالت میں اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہو گے۔اُن مشرکوں کو کہو کہ اب اُس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے گویا اس صورت میںبَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ کے یہ معنے ہوںگے کہ اللہ کی طرف سے برأت ہے اور اس کے رسول کی طرف سے بھی برأت ہے اُن مشرکین کے مقابلہ میں جن سے تم نے عہد کیا تھا۔اِن معنوں کے رُو سے میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہاں صلح حدیبیہ والے معاہدے کا ذکر آتا ہے بلکہ ان معنوں کے رُو سے عَاھَدْتُّمْ سے مراد وہ معاہدہ ہو گا جس کا سورۂ نبا میں ذکر آتا ہے یعنی سورۂ نبا میں تم سے کہا گیا تھا کہ اے کافرو! ایک دن ایسا آنیوالا ہے جب تم مکّہ میں سے نکال دیئے جائو گے۔یہی وہ عہد جس کا سورۂ توبہ میں عَاھَدْتُّمْ کے الفاظ میں ذکر آتا ہے۔اس پیشگوئی کو عہد کے نام سے اس لئے پکارا گیا ہے کہ بنی جب کوئی ایسی پیشگوئی کرتا ہے جس کا کفّار پر بھی اثرپڑتا ہو تو مومنوں کو ہی یہ شوق نہیں ہوتا کہ وہ اُس پیشگوئی کو پورا ہوتا دیکھیں بلکہ اگر وہ پیشگوئی کسی وجہ سے پوری نہ ہو تو دشمن بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پیشگوئی کیوں پوری نہیں ہوئی اس لئے وہ عہد کا رنگ اختیار کرلیتی ہے۔پس عَاھَدْتُّمْ میں سورۂ نبا والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اب خدا اور اس کے رسول کی برأت ہوگئی یعنی اب تم یہ الزام نہیں دے سکتے کہ وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ ہم نے جو تم سے کہا تھا کہ ایک دن ایسا آنیوالا ہے جب مسلمانوں کو تم پر غلبہ حاصل ہو جائے گا اور تم مکّہ میں نہیں ٹھہر سکو گے ہماری وہ بات پوری ہو گئی ہے۔فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے گا اور ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ ایک دن تمہیں اپنے ملک سے نکال دیا جائے گا اب ہم نے اپنے اس عہد کو پورا کر دیا ہے مگر چونکہ غلبۂ اسلام دیکھنے کے لئے تمہارا ٹھہرنا ضروری ہے اور پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے تمہاری وطن سے جدائی ضروری ہے اس لئے ہم نے تمہارے رہنے کے لئےچار مہینے مقرر کر دیئے ہیں تاکہ تم اس عرصہ میں سارے عرب