تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 43
جدائی کا دن اور اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا کے معنے ہوئے یَوْمُ الْفَصل کا ایک وقت مقرر ہے اس یَوْمُ الْفَصْل سے جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں غلبۂ اسلام بھی مراد ہے مگر اس میں ایک اور امر کی طرف بھی اشارہ ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کفّار مکّہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے جس طرح محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمہارے ظلموں کی وجہ سے تم سے جدا ہو نا پڑا ہے اسی طرح خدا ایک دن محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غلبہ دے کر تم کو بھی جُد ا کر دے گا اور وہ دن تمہارے لئے یَوْمُ الْفَصْل ہو گا۔چنانچہ اِسی کی طرف سورۂ توبہ میں اشارہ کیا گیاہے۔جو درحقیقت سورۂ انفال کا دوسرا باب ہے۔یہ سورۃ شروع ہی اس طرح ہوتی ہے کہ بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ۔وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔(آیات :۱ تا ۵) سورۃ نبأ کے موعود یوم الفصل کا ذکر سورۃ توبہ میں اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ چار مہینے کفّار کو یہاں رہنے کی اجازت ہے۔جب چار مہینے گذر جائیں تو پھر کفّار یہاں سے چلے جائیں۔یہ وہ یَوْمُ الْفَصْل ہے جو کفّار پر آیا اور جس کا فتح مکّہ کے بعد اعلان کیا گیا گویا فتح مکّہ کا نتیجہ ہی یَوْمُ الْفَصْل تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ یَوْمَ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا وہ موعود دن تم پر آنےوالا ہے جب تم کو اپنے گھروں اور وطن سے جُدا ہونا پڑے گا۔یعنی ایک دن ایسا آنیوالا ہے جب مسلمان نہ صرف غالب آجائیںگے بلکہ وہ اتنے غالب ہوںگے کہ مشرکوں کووہ کھلے بندوں یہ سُنا دیں گے کہ تم یہاں سے چلے جاؤ ہمارا تمہارا کوئی جوڑ نہیں۔ایسا غلبہ عام حالات میں نہیں ہوتا بلکہ غیر معمولی حالات میں ہی ہو سکتا ہے۔سپینؔ پر مسلمانوں کو ایک لمبے عرصہ تک غلبہ حاصل رہامگر باوجود غلبہ کے وہ عیسائیوں کو سپین میں سے نکال نہ سکے۔اسی طرح اور کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمان حکمران ہوئے مگر وہ غیر مذاہب والوں کے اپنے ملکوں سے نکال نہیں سکے۔ہندوستان میں ہی مسلمانوں کی ایک لمبے عرصہ تک حکومت رہی مگر وہ ہندوئوں کو نہ نکال سکے۔آجکل ہندوستان میں ہندو بہت طاقتور ہیں مگر وہ مسلمانوں کو نہیں نکال سکتے بلکہ انگریز جن کے ماتحت ہندوستانی ہیں وہ بھی ہندستانیوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم ہندوستان سے