تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 475

اللہ تعالیٰ کے حکم کےماتحت کشتی تیار کررہے تھے تو کفار وہاں سے گزرتے اور اُن کو دیکھ دیکھ کر ہنستے تھے کہ یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے اُس زمانہ میں مومن بظاہر ایسے ہی بے کار کاموں میں مشغول نظر آئیں گے اور جب کفار اُن کو دیکھیں گے تو وہ ایک دوسرے کو آنکھیں ماریں گے کہ دیکھو جی یہ پاگل کیا کر رہے ہیں۔اِس آیت سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ غالب قوم میں اُس وقت تسامح ہو گا اور اُن کے ظاہری اخلاق اور ہوں گے اور باطنی اَور۔تغامزؔ انسان اُسی جگہ کرتا ہے جہاں وہ سمجھتا ہے کہ میرا کچھ کہنا اخلاق کے خلاف ہے اور یہ بات یوروپین قوموں میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔اُن سے کوئی بات کرو وہ رسمی طور پر اُس وقت یہی کہیں گے کہ آپ بالکل درست کہہ رہے ہیںمگر دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ تو پاگل ہیں۔پس یَتَغَامَزُوْنَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یوروپین لوگوں کے اخلاق کا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ وہ ظاہر کچھ کریں گے اَور اُن کے دل میں کچھ ہو گا۔وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَٞۖ۰۰۳۲ اور جب گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو (مسلمانوں کے خلاف) خوب باتیں بناتے ہوئے لوٹتے تھے۔حَلّ لُغَات۔فَکِھِیْنَ:فَکِھِیْنَ فَکِہٌ کی جمع ہے۔کہتے ہیں فَکِہَ الرَّجُلُ فَکَھًا وَفَکَاھَۃً۔کَانَ طَیِّبُ النَّفْسِ مَزَّاحًا ضَحُوْکًا۔یعنی وہ بڑی اچھی طبیعت والا بامذاق اور ہنسنے والا ہےیا فَکِہَ الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں یُحَدِّثُ اَصْحَابَہٗ فَیُضْحِکُھُمْ۔وہ اپنے ساتھیوں سے اس غرض کے لئے باتیں کرتا ہے تاکہ وہ ہنسیں۔فَھُوَ فَاکِہٌ وَفَکِہٌ وَفَیْکَھَانُ۔اسے فَاکِہٌ۔فَکِہٌ اور فَیْکَھَانُ بھی کہتے ہیں اور فَکِہَ مِنْہُ کے معنے ہوتے ہیں تَعَجَّبَ۔اُس نے تعجب کیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب یہ اپنی قوم یا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاتے ہیں تو خوب قہقے لگاتے اور مذاق کرتے جاتے ہیں کہ یہ کیسے بے وقوف لوگ ہیں۔چونکہ فَکِہَ مِنْہُ کے معنے تعجب کرنے کے بھی ہیں اس لئے اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ تعجب کریں گے کہ یہ لوگ کیسے بے ہودہ خیالات میں پڑے ہوئے ہیں اور کیسی حماقت میں مبتلا ہیں کہ خیال کرتے ہیں اُن کی تعلیم اس ترقی اور تعلیم کے زمانہ میں پھیل جائے گی۔