تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 474

میں چمک ہو تو وہ بھی استعارۃً ضاحک کہلاتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے سُمِّیَ الْبَرْقُ الْعَارِضُ ضَاحِکًا وَالْحَجَرَ یَبْرُقُ ضَاحِکًا وَسُمِّیَ الْبَلَحُ حِیْنَ یَتَفَتَّقُ ضَاحِکًا وَطَرِیْقٌ ضَحُوْکٌ وَاضِحٌ وَضَحِکَ الْغَدِیْرُ: تَلَأْ لَأَ مِنْ اِمْتِلَائِ ہٖ (مفردات) یعنی بجلی کو جب وہ بادلوں میں چمک رہی ہو ضاحکؔ کہتے ہیں۔پتھّر جو چمک رہا ہو اُس کو بھی ضاحک کہتے ہیں۔کھجور جب پختہ ہونے پر آئے اُسے بھی ضاحک کہتے ہیں۔کھلے راستہ کو بھی طَرِیْقٌ ضَحُوْکٌ کہتے ہیں۔اور وہ تالاب جو پانی سے خوب بھرا ہوا ہو اور اس کی کثرت کی وجہ سے چمک رہا ہو اس کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ ضَحِکَ الْغَدِیْرُ۔تالاب پانی کی کثرت سے چمک پڑا۔یَتَغَامَزُوْنَ:یَتَغَامَزُوْنَ تَغَامَزَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور تَغَامَزَ الْقَوْمُ کے معنے ہوتے ہیں اَشَارَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ بِاَعْیُنِھِمْ۔ایک دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔(اقرب) تفسیر۔اسلام کی ترقی کی پیشگوئی پر کفار کا ہنسنا اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے۔یقیناً وہ لوگ جنہوں نے جرم کیا اور جو خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی وجہ سے کٹ چکے ہیں وہ اُن لوگوں سے جو کہ مومن ہیں تمسخر کرتے تھے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ضُعف اور اُن کی کمزوری کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس زمانہ میں اُن کی حالت اس قدر کمزور ہو گی اور اُن کا دوبارہ ترقی اور عروج حاصل کرنا بظاہر اس قدر ناممکن ہو گا کہ کفّار اُن کو دیکھ دیکھ کر ہنسیں گے اور جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے یہ کہیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پھر ترقی عطا کرنے والا ہے تو وہ کہیں گے یہ تو پاگل ہو گئے ہیں۔ان کے دماغ سلامت نہیں رہے۔کہ یہ خیال کرتے ہیں انہیں حکومت مل جائے گی۔دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی ان کے ذریعہ ہو گی اور نظامِ نَو کو یہ لوگ قائم کریں گے۔وَاِذَا مَرُّوْابِھِمْ یَتَغَامَزُوْنَ۔اَور جب وُہ ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو وُہ اُن کو دیکھ کر آنکھیں مارتے ہیں۔آنکھیں اُس وقت ماری جاتی ہیں جب انسان کسی دوسرے کے متعلق یہ یقین رکھتا ہو کہ وہ پاگل ہے اور وہ اپنے جنون کی حالت میں سمجھتا ہے کہ میں کامیاب ہو جائوں گا اور دنیا کا بادشاہ بن جائوں گا ایسی حالت میں لوگ اُس کو دیکھ دیکھ کر اپنے ساتھیوں کو توجہ دلانے کے لئے آنکھیں مارتے ہیں۔اس خیال سے کہ اگر ہم نے منہ سے کوئی بات کی تو یہ پیچھے پڑ جائے گا۔پس فرماتا ہے یہ لوگ بھی جب مومنوں کو دیکھیں گے اور اُن کی زبان سے یہ باتیں سُنیں گے کہ دنیا میں وہ ایک بہت بڑا تغیّر پیدا کرنے والے ہیں تو وہ آپس میں آنکھیں ماریں گے کہ یہ لوگ تو پاگل ہو گئے ہیں۔یہ بالکل وہی نقشہ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پر ہنسنے والوں کا تھا۔جب حضرت نوح علیہ السلام