تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 473

تَعْجَبُوْنَ وَتَضْحَکُوْنَ۔اور معنے یہ ہیں کہ وہ تعجب کرتے ہیں۔استعجاب کا اظہار کرتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی اُن کی حالت پر تعجب کر کے مذاق کرتے ہیں گویا ضحک کے معنے ایسی ہنسی کے ہیں جس کے ساتھ تعجب بھی شامل ہوتا ہے۔وَیُسْتَعْمَلُ فِیْ السُّرُوْرِ الْمُجَرَّدِ۔اور کبھی یہ لفظ خالی خوشی کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے خواہ ظاہری طور پر ہنسی آئی ہو یا نہ آئی ہو۔وَاسْتُعْمِلَ لِلتَّعَجُّبِ الْمُجَرَّدِ تَارَۃً اور کبھی مجرّد تعجب کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی خواہ صرف تعجب ہو۔خوشی ہو یا نہ ہو۔پھر مفردات کے مصنّف لکھتے ہیں وَمِنْ ھٰذَا الْمَعْنٰی قَصَدَ مَنْ قَالَ اَلضِّحْکُ یَخْتَصُّ بِالْاِنْسَانِ وَلَیْسَ یُوْجَدُ فِیْ غَیْرِہٖ مِنَ الْحَیَوَانِ انہی معنوں کی رُو سے بعض نے کہا ہے کہ ضحک انسان کے ساتھ مختص ہے کسی حیوان میں ضحک نہیں پایا جاتا (مفردات) تعجب ہے کہ مفردات والوں نے یہ کس طرح لکھ دیا حالانکہ تعجب جانوروں میں نمایاں طور پر پایا جاتا ہے چنانچہ جانور کے سامنے کوئی نئی چیز رکھ دی جائے تو وہ اُس کے پاس جاتا ہے اُسے تھوتھنی مارتا ہے۔سونگھتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ وُہ چیز اُس کے کھانے کے قابل نہیں تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔البتہ قہقہ مار کر ہنسنے والا کوئی جانور دکھائی نہیں دیتا۔صرف ایک قلیل حد تک بندر میں ہنسی کا مادہ پایا جاتا ہے۔پھر وہ کہتے ہیں وَلِھٰذَا الْمَعْنٰی قَالَ وَاِنَّہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔قرآن کریم میں یہ جو آتا ہے کہ اِنَّہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی٭ اس کے معنے بھی تعجب کے ہی ہیں۔اسی طرح مفردات والے قرآنی آیت اِمْرَاَتُهٗ قَآىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ میں ضَحِکَتْ کے معنے حَاضَتْ کرنے کے مخالف ہیں۔وہ کہتے ہیں جس مفسّر نے یہ لکھا ہے اُس نے پہلے مفسّر کے معنے غلط سمجھے اس کی یہ مراد نہ تھی کہ ضَحِکَتْ کے معنے حَاضَتْ کے ہیں بلکہ اُس نے یہ لکھا تھا کہ اُس وقت جبکہ وہ ہنسیں اُن کو حیض آ گیا۔مفردات والوں کے نزدیک اس آیت میں بھی ضَحِکَتْ کا لفظ تعجب کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں قرآن کریم کی دوسری آیتیں اِن معنوں کو ثابت کر دیتی ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو جب لڑکے کی خوشخبری ملی تو انہوں نے کہا ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِيْ شَيْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ(ھود :۷۳) اسی طرح آتا ہے اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ (ھود: ۷۴) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ضَحِکَتْ کے معنے تعجب کے ہی ہیں کیونکہ ضَحِکَتْ کے لفظ کی اَتَعْجَبِیْنَ سے تشریح کی گئی ہے۔مفردات کے مصنف یہ بات بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز اگر واضح ہو اور اس میں ٭ نوٹ: مفردات کے مصنف نے ھُوَ اَضْحَکُ وَ اَبْکٰی کی آیت ضَحِکَ سے مراد تعجب لیا ہے اور یہ معنے چسپاں ہوتے نظر نہیں آتے غالباً یہ آیت غلطی سے لکھی گئی ہے اصل آیت جس سے استنباط ہے وہ اس سے اگلی آیت ہے۔