تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 466
صلے اللہ علیہ وسلم کے احکام ہیں کہ وہ اُن پر محبت کے نشہ میں مخمور ہو کر ایسا عمل کریں گے کہ اپنے عشق کو کمال تک پہنچا دیں گے۔لفظ مختوم میں شراب کی خوبی کا اظہار مَخْتُوْمٌ کا لفظ ایک طرف شراب کی خوبی ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف پینے والوں کی خوبی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔اَور قوموں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیمیں تو دی گئیں مگر انہوں نے اُن پر اُدھورا عمل کیا۔موسیٰ ؑ کو جو کچھ دیا گیا تھا اُس میں سے کچھ موسیٰ ؑکی قوم نے لیا اور کچھ نہ لیا۔عیسٰیؑ کو جو کچھ دیا گیا تھا اُس میں سے بھی کچھ عیسٰیؑ کی قوم نے لیا اور کچھ نہ لیا۔مگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی قوم وہ ہے کہ جب اُس نے خم کو منہ لگایا تو پھر اُس نے اُسے چھوڑا نہیں بلکہ وہ پیتی چلی گئی یہاں تک کہ اُسے ختم کر دیا یعنی اُس کی ایک ایک تعلیم کو اُس نے جامہ عمل پہنایا۔اسی طرح مختومؔ کے لفظ سے قرآن کریم کی تعلیم کی خوبی بھی ظاہر ہے کیونکہ جس تعلیم کو چھوڑا نہ جائے اُس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے۔ایسی نہیں جو برداشت نہ ہو سکے۔جس تعلیم کو انسان برداشت نہ کر سکتا ہو اُسے چھوڑ دیتا ہے مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ (القمر :۱۸)ہم نے قرآن کو عمل کے لئے بالکل آسان کر دیا ہے اس کی کوئی تعلیم ایسی نہیں جس کا فطرت صحیحہ انکار کر سکتی ہو یا جس پر عمل کرنا اُس کے لئے دشوار ہو۔پس اس ایک لفظ کے استعمال سے دونوں خوبیوں کی طرف اشارہ کر دیا۔اِدھر قرآن کے متعلق بتا دیا کہ اس کی کوئی تعلیم ایسی نہیں جسے چھوڑا جا سکے انسان اس کی ایک ایک بات پر عمل کر سکتا ہے اور کسی کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس پر عمل کرنا میرے لئے مشکل ہے۔دوسری طرف صحابہؓ کی تعریف کر دی کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو وہ خادم اور ساتھی ملے تھے کہ جنہوں نے خُم سے مُنہ لگایا تو وہ خُم کا خُم ہی چڑھا گئے۔خَتَمَ کے دوسرے معنے مہر کے ہوتے ہیں اور جس چیز پر مُہر لگی ہوئی ہو اُس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔پس رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ کے یہ معنے ہوئے کہ وہ پاک اور منزّہ ہو گی اور اُس میں کسی اور شئے کی آمیزش نہ ہو گی۔یہ بھی قرآن کریم کی صفت ہے اور دشمن سے دشمن بھی سوائے شیعوں کے اقرار کرتا ہے کہ قرآن کریم ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہے اور اس میں نہ کوئی چیز باہر سے داخل ہوئی ہے اور نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہرنکلی ہے۔جس چیز پر مُہر لگی ہوئی ہو اُس میں یہی خصوصیت ہوتی ہے کہ نہ اُس کے اندر کی چیز باہر نکلتی ہے اور نہ باہر سے کوئی چیز اندر داخل ہوتی ہے اسی طرح قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو مختوم ہے۔جب قرآن نازل ہوا تھا اس وقت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم زندہ موجود تھے اور آپ کے ہوتے ہوئے کوئی شخص اس میں بگاڑ پیدا کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔آپ