تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 464

ملک پر حملہ کرنے کے لئے آئے ہو تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم ایسا کر سکو۔کوئی دوسرا ہوتا تو وہ لڑ پڑتا کہ میری ہتک کی گئی ہے مگر صحابہؓ نے کہا آپ نے جو کچھ کہا بالکل درست ہے ہماری یہی حالت ہوا کرتی تھی مگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آنے کے بعد ہماری یہ حالت نہیں رہی۔اب ہم میں تغیّر پیدا ہو چکا ہے(تاریخ طبری زیر عنوان ثم دخلت سنۃ اربعۃ عشر ذکر ابتداء امر القادسیۃ)۔غرض غنائِ نعمت اُن کا جزو بن گئی تھی یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی گزشتہ حالت کو چھپاتے ہوں اور سمجھتے ہوں کہ اگر لوگوں کو ہماری پہلی حالت کا پتہ لگ گیا تو ہماری ہتک ہو گی۔وہ اس میں کوئی ہتک نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس حالت سے دوسری حالت کو پانے میں خدا تعالیٰ کا ایک نشان دیکھتے تھے اس لئے اُس کے اظہار میں مزہ حاصل کرتے تھے۔پس تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ تو غناء نعمت اُن کے چہروں پر دیکھے گا نَو دولتوں والی حالت اُن میں نہیں دیکھے گا۔يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ۰۰۲۶ اُنہیں خالص سر بمہر شراب پلائی جائے گی۔حَلّ لُغَات۔رَحِیْق رَحِیْق خالص چیز کو کہتے ہیں۔ا سی طرح رَحِیْق کے ایک معنے شراب کے ہیں۔اور رَحِیْق ایک قسم کی خوشبو کوبھی کہتے ہیں۔(تاج العروس) مَخْتُوْم:مَخْتُوْم خَتَمَ سے نکلا ہے اور خَتَمَ یَخْتُمُ خَتْمًا وَخِتَامًا کے معنے ہوتے ہیں طَبَعَہٗ وَ وَضَعَ عَلَیْہِ الْخَاتَمَ۔اور عَلٰی کے ساتھ بھی یہ متعدی آتا ہے چنانچہ کہتے ہیں خَتَمَ الْکِتَابَ وَعَلَی الْکِتَابِ یعنی اُس نے کسی چیز پر مُہر لگائی۔خَتَمَ الشَّیْئَ خَتْـمًا کے معنے ہوتے ہیں بَلَغَ اٰخِرَہٗ کسی چیز کو ختم کر دیا اور اُس کے آخر تک پہنچ گیا۔خَتَمَ الْکِتٰبَ کے معنے ہوتے ہیں قَرَأَہُ کُلَّہٗ وَاَتَمَّہٗ۔اُس نے تمام کتاب پڑھ لی اور اُسے تکمیل تک پہنچا دیا۔خَتَمَ الصَّکَّ وَغَیْرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں وَضَعَ عَلَیْہِ نَقْشَ خَاتِمِہٖ حَتّٰی لَا یَجْرِیْ عَلَیْہِ التَّزْوِیْرُ اُس نے چک یا ویسی ہی کسی چیز پر اپنی انگوٹھی سے مُہر لگا دی تاکہ کسی قسم کی دھوکا بازی نہ ہو۔خَتَمَ الْعَمَلَ کے معنے ہوتے ہیں فَرَغَ مِنْہُ اس سے فارغ ہو گیا۔اور خَتَمَ الْاِنَائَ کے معنے ہوتے ہیں سَدَّہٗ بِالطِیْنِ وَنَحْوَہٗ اس کا مٹی وغیرہ سے منہ بند کر دینا۔وَفِیْ الْقُرْاٰنِ یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ خِتَامُہٗ مِسْکٌا ور قرآن میں جو آتا ہے کہ یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ۔اُس کے بھی یہی معنے ہیں کہ وہ شراب سربمہر ہو گی۔جیسے انگریزی دوائیوں کی جو شیشیاں آتی ہیں