تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 463

پر مالدار ہو جانے والے کا نوکر اگر کچھ نقصان کر بیٹھے تو وہ اس سے بڑی سختی کا معاملہ کرتا ہے لیکن نسبی طور پر جن کے اندر غناء پایا جاتا ہے وُہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام عفو اور چشم پوشی کرنا ہے۔نَضْرَۃٌ کے ایک معنے چونکہ غناء کے بھی ہیں اس لئے اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ باوجود اس کے کہ اونٹ چراتے چراتے صحابہؓ کو حکومت کے تخت پر بٹھا دیا جائے گا وہ ویسے ہی وسیع الحوصلہ اور ویسے ہی بااخلاق ہوں گے جیسے نسلًا بعد نسلٍ وہ حکومت کرتے چلے آئے ہوں گویا وہ اخلاق جو کسب کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ بھی ان کو حاصل ہوں گے اور جو نسلی طور پر حاصل ہوتے ہیں وہ بھی اُن میں اُسی دن پیدا ہو جائیں گے جس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُنہیں حکومت کے تخت پر بٹھا یا جائے گا۔چنانچہ صحابہؓ کو دیکھ لو کوئی کمینگی ان کے فعل میں نظر نہیں آتی حالانکہ نَو دولتوں میں کچھ نہ کچھ وہ بات ضرور ہوتی ہے جسے انگریزی میں فاپشنیس FOPPISHNESS کہتے ہیں یعنی اُن کی طرف سے ایک قسم کا اظہار اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم دولت مند ہیں اور اس طرح لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ وہ ہیں جنہیں نئی نئی دولت ملی ہے مگر فرماتا ہے تم ان صحابہ کے چہروں کو دیکھو گے تو تمہیں ان پر غناء دولت نظر آئے گا تم ان کو دیکھ کر یہ خیال بھی نہیں کر سکو گے کہ انہیں نئی نئی دولت ملی ہے بلکہ یوں سمجھو گے کہ یہ نسلًا بعد نسلٍ اسی طرح حکمران چلے آئے ہیں۔کمینگی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑنا اور اپنی دولت مندی کا اظہار کرنا اُن کے اندر نظر نہیں آئے گا۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ایک شخص کے متعلق جو بعد میں عیسائی ہو گیا سُنایا کرتے تھے کہ اُسے اپنے باپ دادا سے ورثہ میں کچھ جائداد ملی جو اُس نے تباہ و برباد کر دی اور وہ کنگال ہو گیا مگر اس حالت میں بھی اس کی عادت یہ تھی کہ جب وہ لاہور اسٹیشن پر اُترتا تو قُلی کوبلا کر اپنا رُومال اُسے پکڑا دیتا اور کہتا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آئو۔آپ فرماتے کہ میں نے اُس سے پوچھا کہ تم یہ کیا کرتے ہو کہ تمہارے پاس سامان تو کوئی ہوتا نہیں اور تم صرف رومال جیب سے نکال کر قلی کو پکڑا دیتے ہو اور کہتے ہو کہ وہ اسے ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تمہارے پیچھے پیچھے چلا آئے۔اس پر وہ کہنے لگا اس کے بغیر شان نہیں ہوتی۔تو یکدم انسان کو دولت مل جائے تو اُس کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں مگر فرمایا یہ شتربان اونٹوں کو چراتے چراتے حکومت کے تخت پر جا بیٹھیں گے مگر نَو دولتوں والی کمینگی ان کے اخلاق میں نہیں پائی جائے گی بلکہ غناء نعیم اُن کے چہروں سے ظاہر ہوگا چنانچہ صحابہؓ جہاں بیٹھتے اس امر کا صاف صاف اقرار کرتے کہ ہم غریب ہوتے تھے، بھوکے رہتے تھے، کھانے اور پہننے کو کچھ نہیں ملتا تھا مگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی برکت سے خدا نے ہمیں یہ نعمتیں عطا فرما دیں۔ایران کے بادشاہ نے ایک دفعہ اُن سے کہہ دیا کہ تم ذلیل لوگ گوہ کھانے والے میرے