تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 462

اور میری اُس تقریر میں شامل تھے انہوں نے مجھے ایک رقعہ لکھا جس کا مضمون قریباً یہ تھا کہ آپ کیاغضب کر رہے ہیں کہ وہ نکتے جو صوفیاء دس دس بارہ بارہ سال تک لوگوں سے خدمت لینے کے بعد بتایا کرتے تھے اس طرح پے در پے بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔تو لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم کو چھپاتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی سے نئی باتیں سکھاتا رہتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ علوم کا چھپانا ایسا ہی ہے جیسے صاف پانی کو گدلہ کر دیا جائے اور خدا تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحٰی:۱۲) خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلائو۔پس فرمایا وہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو چھپائیں گے نہیں بلکہ یوں معلوم ہو گا کہ وہ اُن کے چہروں سے پُھوٹ پُھوٹ کر ظاہر ہو رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص ملے تو اس کے سامنے ان نعمتوں کو رکھ دیں۔دوسرےؔ معنے اس کے یہ ہیں کہ چونکہ اس آیت سے پہلے مادی ترقیات کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ جب ان لوگوں کو مادی ترقیات ملیں گی تو اُن کا حال دوسرے لوگوں سے مختلف ہو گا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو نعماء ظاہری تو ملتی ہیں مگر ان کا دل اندر سے جل رہا ہوتا ہے۔مثلًا کسی کو حکومت تو مل جاتی ہے مگر ا س کے خاندان میں ایسا تفرقہ اور فساد ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اس حکو مت نے میری زندگی کو وبال جان بنا دیا ہے یا امراء اور وزراء میں ایسی ایسی ریشہ دوانیاں ہوتی ہیں کہ حکومت ملنے کے باوجود انہیں دل کا اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔باورچی کھانا لاتا ہے تو وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں باورچی نے کھانے میں زہر نہ ملا دیا ہو۔طبیب آتا ہے تو وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ دوا میں زہر ملا کر مُجھے ہلا ک نہ کر دے۔وزیر ملنے آتا ہے تو وہ ڈرتے ہیں کہ یہ کہیں مار نہ ڈالے۔اِسی وجہ سے بادشاہوں کی طرف سے عجیب عجیب قسم کی حفاظتیں اور نگرانیاں کی جاتی ہیں۔مگر فرماتا ہے ہم مومنوں کو وہ نعمتیں دیں گے جو نہ صرف اُن کے ظاہر پر ہو گی بلکہ اُن کے دل پر نازل ہوں گی اور اس وجہ سے یہ نہیں ہو گا کہ انہیں مادی کامیابی تو حاصل ہو جائے مگر ان کے دل خوش نہ ہوں بلکہ جہاں انہیں مادی ترقیات کے سامان ہماری طرف سے ملیں گے وہاں اُن کے دل بھی خوش ہوں گے اور مادی ترقی قلبی خوشی کے ساتھ ملی ہوئی ہو گی۔کسبی اور نسبی غناء میں فرق تیسرےؔ معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان کو غناء نعیم ملے گا یعنی حقیقی نعمت سے جو غناء پیدا ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے انسان غرباء پر رحم کرتا ہے وہ اُن کو حاصل ہو گا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اخلاق کسبی طور پر اچھے ہوتے ہیں اور بعض اخلاق نسلی طور پر اچھے ہوتے ہیں۔مثلًا کسبی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ کسب والا اپنے مال کی اچھی طرح حفاظت کرتا ہے لیکن نسب والا اپنے مال کی اُس طرح حفاظت نہیں کرتا۔چنانچہ کسبی طور