تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 460
دُور کرے۔لیکن فرماتا ہے وہ ایسے دیندار لوگ ہوں گے کہ ایسے مقامات پر بھی کہ سونے اور آرام کرنے کے ہیں چُست اور ہوشیار ہوں گے اور اپنے مفوضہ کاموں کی کڑی نگرانی رکھیں گے گویا بتایا کہ اَور لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب انہیں نعمتیں ملتی ہیں۔آرام و آسائش کے سامان حاصل ہوتے ہیں تو وہ سُست اور غافل ہو جاتے ہیں۔اپنے فرائض کو عمدگی سے ادا نہیں کرتے۔لوگوں کے حقوق کو ادا کرنے کا فکر نہیں کرتے۔وہ دنیوی عیش کے سامانوں میں اس قدر منہمک ہو جاتے ہیں کہ تمام فرائض کو بھلا بیٹھتے ہیں مگر ابرار کی یہ حالت نہیں ہو گی۔جب اللہ کی طرف سے انہیں دنیا کی حکومت ملے گی۔جب انہیں عزت ملے گی ،رتبہ ملے گا، مال ملے گا تو وہ سُست نہیں ہو جائیں گے بلکہ اپنے فرائض کو پوری خوش اسلوبی سے ادا کریں گے اور وہ ہر وقت ایسے رہیں گے جیسے دیکھ رہے ہیں کہ کیا نقص واقعہ ہونے والا ہے اور وہ اس کو کس طرح دور کر سکتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو مال دیا، دولت دی، عزت دی، رُتبہ دیا مگر وہ اسلام سے غافل نہیں ہو گئے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو کئی کروڑ روپیہ کی جائداد اُن کے ترکہ میں تقسیم ہوئی(الطبقات الکبریٰ ذکر وصیۃ عبدالرحمٰن بن عوف و ترکتہ)۔اُن کی سالانہ آمد بھی لاکھوں دینار تھی مگر باوجود اس کے وہ رات اور دن اشاعتِ اسلام میں مشغول رہے اور مال و دولت کی فراوانی نے اُن کے اندر کسل یا غفلت پیدا نہیں کی۔یہی حال حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا تھا وہ ساری دنیا کے بادشاہ ہو گئے مگر سُست اور غافل نہیں ہوئے بلکہ اپنے فرائض منصبی کو پوری تندہی سے ادا کرتے رہے حضرت عمررضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ حضرت عثمانؓ بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں مَیں ایک دفعہ باہر قبہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اتنی شدید گرمی پڑ رہی تھی کہ دروازہ کھولنے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اتنے میں میرے غلام نے مجھے کہا دیکھئے اس شدید دھوپ میں باہر ایک شخص پھر رہا ہے۔میں نے پردہ ہٹا کر دیکھا تو مجھے ایک شخص نظر آیا جس کا منہ شدّتِ گرمی کی وجہ سے جُھلسا ہوا تھا۔میں نے اُس سے کہا کہ کوئی مسافر ہو گا مگر تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ شخص میرے قبّہ کے قریب پہنچا اور میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمرؓ ہیں۔اُن کو دیکھتے ہی میںگھبرا کر باہر نکل آیا اور میں نے کہا اس گرمی میں آپ کہاں؟ حضرت عمرؓ فرمانے لگے بیت المال کا ایک اُونٹ گم ہو گیا تھا جس کی تلاش میں مَیں باہر پھر رہا ہوں(اسد الغابۃ زیر عنوان عمر بن عبد الخطاب)۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ وہ ہوں گے تختوں پر مگر ہر وقت نگرانی اُن کا کام ہو گا۔دنیا کی نعمتیں اور دنیا کے آرام اُن کو سست نہیں بنائیں گے وُہ اُن ارائک کے اندر سو نہ رہے ہوں گے بلکہ بیدار و ہوشیار ہوں گے۔لوگوں کے حقوق کی دیکھ بھال کریں گے اور اپنے فرائض منصبی کو پوری خوش اسلوبی سے ادا کرتے چلے جائیں گے۔