تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 457
جب جی چاہے پردے ڈالے جا سکیں اُردو میں اسے چھپرکھٹ کہتے ہیں۔تفسیر۔یَنْظُرُوْنَ اَبْرَار کی صفت ہے کہ اَبْرَار اُس وقت دیکھتے ہوں گے یا یہ اُس کا حال ہے اور مطلب یہ ہے کہ بعض نعماء دنیا میں ملتی ہیں مگر انسان اُن کی حقیقت کو سمجھتا نہیں۔جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہ نعمت دے گا تو اُن کی حالت ایسی ہو گی کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے یعنی وہ سمجھتے ہوں گے کہ اس نعمت کی کیا قدر و قیمت ہے۔اس کی موٹی مثال یہ دیکھ لو کہ اگر ایک بچے کو ہیرا دے دو تو وہ ہر گز یہ خیال نہیں کرے گا کہ اُسے کوئی قیمتی چیز دے دی گئی ہے۔اسی طرح بعض قوموں کو دنیوی نعمتیں مل جائیں تو وہ اُن کی حقیقت کو نہیں سمجھتیں جیسے یورپ والوں کو مائدہ ملا اور وہ مائدہ ملا جس کے لئے حضرت عیسٰی علیہ السّلام نے دعا کی تھی مگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں جو کچھ حاصل ہوا اپنے زورِ بازو سے حاصل ہوا ہے گویا دیکھنے والی نظر ماری گئی ہے۔عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَکا مطلب لیکن مومنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم اُنہیں نعمتیں دیں گے تو ایسی حالت میں دیں گے کہ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ وہ آرائک پر بیٹھے ہوئے خوب سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ نعمتیں اُنہیں اُن پیشگوئیوں کی وجہ سے ملی ہیں جو اُن کے متعلق کی گئی تھیں۔گویا بصیرتِ روحانی اُن کے اندر موجود ہو گی۔اس لئے بارِ امانت کو وہ صحیح طور پر اٹھائیں گے۔چنانچہ حضرت ابو بکرؓ کو دیکھ لو۔حضرت عمرؓ کو دیکھ لو۔حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو دیکھ لو۔انہوں نے ایک ایک قدم پر یہ سمجھا کہ یہ چیز ہماری نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے ہم کو دی ہے اور جب انہوں نے اس بات کو سمجھا تو انہوں نے اس چیز کی اسی طرح حفاظت کی جس طرح خدا تعالیٰ کی چیز کی حفاظت کی جانی چاہیے۔یَنْظُرُوْنَ کو اگر ابرار کی صفت سمجھا جائے تو اس صورت میں مفسّرین یہ لکھتے ہیں کہ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ (۱)اعلیٰ نظّارے مومنوں کے سامنے کئے جائیں گے یعنی دیکھنے کی عمدہ عمدہ چیزیں اُن کے سامنے ہوں گی (۲)دوسرے یہ کہ وہ کفّار کا عذاب دیکھیں گے۔(روح المعانی زیر آیت ھٰذا) درحقیقت مفسّرین کے سامنے یہی بات رہی ہے کہ وُہ اِن آیات کو قیامت کے متعلق مخصوص سمجھتے ہیں اور چونکہ وہ ان آیات کو قیامت کے متعلق سمجھتے ہیں اس لئے اسی ماحول کی چیزیں اُن کے ذہن میں آتی ہیں۔لیکن ہمارے نزدیک گو یہ آیتیں قیامت پر بھی چسپاں ہو سکتی ہیں مگر قیامت کے آنے سے پہلے اس دنیا کی بھی نعمتیں مراد ہیں جن کے دئے جانے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابرار کو وعدہ ہے اس لئے میرے نزدیک اوّلؔ تو یہ جواب ہے پہلی چیز کا پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا تھا كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ خبردار ہو جائو اور سُنو! کہ