تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 42

ہے وَالسَّرَابُ فِیْ مَا لَا حَقِیْقَتَہٗ کہ سراب اُس کو بھی کہتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔تفسیر۔آسمان کے دروازے دروازےہوجانے کے معنے یَوْمَ یُنْفَخُ فِیْ الصُّوْرِ۔یَوْمُ الْفَصْلِ کا بدل ہے یعنی یَوْمُ الْفَصْلِ سے کون سا یوم مراد ہے؟ یَوْمُ الْفَصْلِ سے مراد وہ دن ہے کہ یُنْفَخُ فِیْ الصُّوْرِ جس دن صورمیں پھونکا جائے گا فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا اور تم فوج در فوج آؤ گےوَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ اور آسمان کھولا جائے گا فَکَانَتْ اَبْوَابًا پس وہ دروازے ہی دروازے ہو جائے گا۔آسمان کے دروازے ہو جانے کے معنے عام طور پرعذاب نازل ہونے کے ہوتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی قرینہ ایسا ہو جو ظاہر کر رہا ہو کہ وہاں عذاب مراد نہیں بلکہ کچھ اور مراد ہے۔ورنہ اگر کوئی رویا میں دیکھے کہ آسمان پھٹ گیا ہے یا وہ چھید چھید ہو گیا ہے اور ساتھ کوئی قرینہ ایسانہ ہو جو بتا رہا ہو کہ یہاں عذاب مراد نہیں بلکہ کچھ اورہے تو اس سے مراد عذاب ہی ہو گا۔لیکن اگر کوئی شخص دیکھے کہ آسمان مثلاً پھٹ گیا ہے اور ملائکہ خدا تعالیٰ کی تسبیحیں کر رہے اور خوشیاں منا رہے ہیں تو اس سے مراد یہ ہو گا کہ اب کسی نبی کی بعثت کا وقت ہے۔بہرحال عام طور پر فتح سماء کے معنے عذاب کے ہی ہوتے ہیں اور جب سماء سے مراد ظاہری سماء ہو تو اُس وقت فُتِحَتِ السَّمَآءُ کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ عذاب کا وقت آ گیا ہے۔قیامت کے دن پہاڑوں کی تباہی وَّ سُيِّرَتِ الْجِبَالُ۔اورپہاڑ اپنی جگہ سے چلائے جائیں گے فَکَانَتْ سَرَابًا پس وہ سراب کی طرح ہو جائیںگے۔سراب وہ ریتلا میدان ہوتا ہے جو دوپہر کے وقت سورج کی شعائوں کے نیچے پانی کی صورت میں نظر آتا ہے۔پہاڑ چونکہ زمین میں سے نکلتے ہیں اور ریت بھی زمین سے ہی پیدا ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت زمین پر ایسی تباہی آئے گی کہ پہاڑ گر جائیں گے اور چونکہ پہاڑ اَوْتَادُ الْاَرْضِ ہوتے ہیں اس لئے جب اَوْتَاد گر جائیں گے تو ساری زمین تباہ ہو جائے گی۔معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن پھر زمین میں ایسی گرمی پیدا ہو گی جو نہایت ہی شدید ہو گی اور وہ ایسی تیز ہو گی کہ بجائے اس کے کہ اُس گرمی سے پہاڑ بنیں موجودہ پہاڑ بھی اس کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور باقی زمین بھی تباہ ہو جائے گی۔یوم الفصل سے مراد قیامت یا غلبہ اسلام یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا اور میں نے بتا یا ہے کہ یَوْمُ الْفَصْل سے مراد قیامت بھی ہے اوریَوْمُ الْفَصْل سے قرآن کریم یا رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غلبہ کا ظہور بھی مراد ہے اور درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں گو نام مختلف رکھ دیا گیا ہے۔چاہے نبوت کے کمالات کا ظہور ہو یا کلام الٰہی کا ظہور ہو بات ایک ہی ہے۔بہرحال اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کے معنے ہوئے