تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 452

ایسے لغو امور کی طرف توجہ کر کے اپنے وقت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔جب تُو نے ہماری طرف توجہ نہ کی تو ہم نے بھی تیری طرف توجہ نہ کی آنکھیں چونکہ ہماری طرف سے ملتی ہیں اور وہ نور بھی ہم ہی دیتے ہیں جس سے انسان دیکھ سکتا ہے اس لئے یہ چیزیں تجھے اسی صورت میں مل سکتی تھیں جب تو ہماری طرف توجہ کرتا۔جب تُو نے ہم سے منہ پھیر لیا تو ہم نے بھی اپنا نورتجھ سے واپس لے لیا اَور تُو اِس جہان میں اندھا پیدا ہوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معجزات و نشانات سے مومن کو ایک رویت نصیب ہوتی ہے جو اس سے محروم ہو وہ اس سے بڑی رویت سے بھی جو دنیا یا آخرت میں ہو گی محجوب ہوں گے۔دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا وہ اُس دن سے پہلے خدا تعالیٰ کو دیکھتے تھے کہ اُن کے متعلق فرمایا گیا ہے اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ اُس دن وہ خدا تعالیٰ سے محجوب ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن محجوب ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ تو رویت کا دن مقرر ہے اُس دن بھی انہیں رویت نصیب نہ ہو گی۔یعنی عام قاعدہ یہ ہے کہ علم کے ساتھ چیز کی شناخت ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ دل پر ایسا زنگ لگا ہوا ہوتا ہے کہ علم کے ساتھ عرفان نہیںآتا دنیا میں عام قانون یہ ہے کہ علم کے ساتھ ہی عرفان آجاتاہے کسی کو کہہ دیں کہ یہ افیون ہے تو وہ اُس کے کھانے سے احتراز کرے گااور سمجھے گا کہ اگر میں نے افیون کھائی تو میں بیمار ہو جائوں گا یا میرے اعصاب کمزور ہو جائیں گے اس لئے وہ افیون کھانے سے ڈرتا ہے مگر ایک اور شخص ہوتا ہے جسے افیون کھانے کی عادت ہو چکی ہوتی ہے اُسے خواہ ڈاکٹر منع کریں، خواہ اس کے اخلاق خراب ہوں، خواہ اُس کی صحت برباد ہو اُس پر کوئی اثر ہوتا ہی نہیں اور وہ برابر افیون استعمال کرتا چلا جاتا ہے۔گویا اُسے علم تو ہوتا ہے مگر عرفان نہیں ہوتا پُرانی عادت اور دل کے زنگ کی وجہ سے علم کے باوجود اسے معرفت حاصل نہیں ہوتی اور وہ افیون کا استعمال ترک نہیں کر سکتا۔تو یہ دو حالتیں ہیں جو مختلف انسانوں پر وارد ہوتی ہیں۔رویت درحقیقت عرفان کا نام ہے علم کا نام نہیں۔وہ دن چونکہ رویت کے لئے مقرر ہو گا اور رویت عرفان سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ علم سے۔اس لئے باوجود اس علم کے کہ وہ غلطی میں مبتلا تھے جب خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور اُس کی طاقتیں ظاہر ہوں گی تو اُن کو عرفان حاصل نہیں ہو گا کیونکہ اُن کے دل گندے ہو چکے ہوں گے۔گویا عرفان جو علم کا ایک طبعی نتیجہ ہے وہ ساتھ نہیں آئے گا جیسے افیون کھانیوالے کو خواہ کتنا ڈرائو وہ اُسے چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اسے افیون کھانے کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے۔فرماتا ہے چونکہ وہ دن انکشاف کا ہو گا اُنہیں علم تو حاصل ہو جائے گا مگر چونکہ اُن کے قلوب گندے ہو چکے ہوں گے اس لئے علم کے باوجود اُنہیں عرفان حاصل نہ ہو گا وہ کہیں گے کہ خدا قادر ہے، وہ سمجھیں گے کہ خدا رحیمؔ ہے، وہ سمجھیں گے کہ خدا عزیز ہے مگر باوجود اس کے اپنے ربؔ اور