تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 448

بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ۰۰۱۷ جس کا تم انکار کرتے تھے۔تفسیر۔یہاں کَلَّا تیسری دفعہ آیا ہے۔پہلے فرمایا تھاكَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ۔پھر فرمایا تھا كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔اب فرماتا ہےكَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ اس کے بعد آگے آئے گا كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَؕ شاید اتنا قریب قریب کَلَّا کا استعمال قرآن کریم میں اور کسی جگہ نہیں ہوا۔یہ چند آیات ہیں مگر ان چند آیات میں ہی چار جگہ کَلَّا استعمال کیا گیا ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ کَلَّا کے معنے روعؔ اور زجرؔ کے ہیں پس کَلَّا کا جو اس جگہ تکرار کیا گیا ہے اُس میں شدّتِ عذاب کی طرف اشارہ ہے۔مسیحیوں کے متعلق حضرت مسیح کی دعا اور اس کا نتیجہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسیحیوں کی نسبت فرمایا تھا کہ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّيْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ (المائدہ:۱۱۶) یعنی جب حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے مائدہ مانگا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں دے تو دوں گا مگر اس نعمت کا انکار نہایت خطرناک نتائج پیدا کرنے والاہو گا۔چونکہ تم نے یہ دعا کی ہے کہ تمہاری قوم کو دنیا میں ترقیات نصیب ہوں اس لئے مَیں انہیں ترقیات تودوں گا اور بہت بڑی ترقیات دُوں گا لیکن اگر میری نعمتوں کا انہوں نے انکار کیا دین سے نفرت کی۔خدا تعالیٰ سے بعد اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑ لیا توفَاِنِّيْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَمَیں عیسائی قوم کو وہ عذاب دُوں گا جو آج تک کبھی کسی قوم کو نہیں دیا گیا۔پس چونکہ سورۂ مائدہ میں مسیحی اقوام کو دنیوی ترقیات عطا کرنے کا وعدہ تھا اور پھر اس کے ساتھ ہی یہ خبر تھی کہ اگر انہوں نے کفر کی طرف رجوع کیا تو مَیں اُن پر وہ عذاب نازل کروں گا جو دنیا میں کسی قوم پر نازل نہیں ہوا۔اس لئے یہاں کَلَّا کا تکرار اِسی عذاب شدید کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ اے عیسائیو اب ہوشیار ہو جائو! تم مطفّف بنے ہوئےلوگوں کے حقوق کو غصب کر رہے ہو اوردنیا کی ترقیات کے مزے لُوٹ رہے ہو۔میں نے تمہیں کہہ دیا تھا کہ اگر دنیا ملنے کے بعد تم نے نافرمانی کی، میرے اس احسان کو بھلا دیا اور میری طرف سے اپنی توجہ ہٹا کر دنیا پر گر گئے تو پھر میں تمہیںوہ عذاب دُوں گا جو آج تک کسی کو نہیں دیا گیا سو وہ عذاب کی خبر جو میں پہلے سےدے چکا تھا اب اُس کا وقت قریب آرہا ہے اور خدا تعالیٰ کی گرفت تم پر نازل ہونے والی ہے جو نہایت شدید اور ہیبت ناک ہو گی۔عیسائیت کی تباہی کے لئے تین جھٹکے پھر کَلَّا کے اس تکرارپر غور کرنے سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی