تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 40

مسلمانوں نے بڑی ترقی کی اور اسے دنیا میں انہوںنے پھیلا دیا۔اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًاۙ۰۰۱۸يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ یقینا یہ فیصلے کا دن ایک مقرر وقت (پر آنے والا) ہے۔جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا۔پھر تم گروہ در گروہ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ۰۰۱۹وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ۰۰۲۰ ہو کر (ہمارے حضورمیں) آؤ گے۔اور آسمان کھول دیا جائے گا۔یہاں تک کہ وہ دروازے (دروازے) وَّ سُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ۰۰۲۱ ہو جائے گا۔اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب (کی مانند) ہو جائیں گے۔حل لغات۔یَوْمٌ اس کے معنے مطلق وقت کے ہوتے ہیںچنانچہ ایک شاعر کہتا ہے ع یَوْمَا ہُ یَوْمُ نَدًی وَیَوْمُ طَعَانٍ یعنی میرے ممدوح پر دو ہی قسم کے وقت آتے ہیں۔یا تو وہ سخاوت میں مشغول ہوتا ہے یا دشمنوں کے قتل کرنے میں۔اسی طرح عرب کہتے ہیں یَوْمَاہُ یَوْمُ نُعْمٍ وَیَوْمُ بُوْسٍ اَیْ الدَّھْرُ یعنی زمانہ دوحال سے خالی نہیں۔یا تو انسان کے لئے نعتیں لاتا ہے یا تکالیف لاتا ہے (لسان العرب) اسی طرح سیبویہ کا قول ہے کہ عرب کہتے ہیں اَنَا الْیَوْمَ اَفْعَلُ کَذَا لَا یُرِیْدُوْنَ یَوْمًا بِعَیْنِہٖ وَلٰکِنَّھُم یُرِیْدُوْنَ الْوَقْتَ الْحَاضِرَ (لسان العرب) یعنی جب کہتے ہیں کہ میں آج کے دن اس اس طرح کروں گا تو اس سے مراد چوبیس گھنٹے کا دن نہیں ہوتا۔بلکہ اس سے مراد صرف موجودہ وقت ہوتا ہے۔اسی طرح اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ جو قرآن کریم میں آتا ہے اس سے بھی مراد معروف دن نہیں بلکہ زمانہ اور وقت مراد ہے (لسان) پھر لکھا ہے وَقَدْیُرَادُ بِالْیَوْمِ اَلْوَقْتُ مُطْلَقًا وَمِنْہُ الْحَدِیْثُ تِلْکَ اَیَّامُ الْھَرَجِ اَیْ وَقْتُہٗ (لسان) یعنی کبھی یوم سے مطلق وقت مراد ہوتا ہے۔جیسے حدیث میں ہے کہ یہ فتنہ اور لڑائی کے دن ہیں۔مراد یہ ہے کہ فتنہ اور لڑائی کا زمانہ ہے۔اَلْفَصْل: اَلْفَصْلُ فَصَلَ کا مصدر ہے۔اور فَصَلَ الشَّیْ ئَ فَصْلًا کے معنےہیں قَطَعَہٗ وَاَبَانَہٗ کسی چیز کے حصے کو کاٹ کر اس سے علیحدہ کر دیا اور اَلْفَصْلُ کے معنے ہیںاَلْحَاجِزُ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ دو چیزیں کے درمیان روک اور پردہ اَلْحَدُّ بَیْنَ الْاَرْضَیْنِ دوزمینوں کے درمیان حد اَلْحَقُّ مِنَ الْقَوْلِ پکی اور مضبوط بات۔اَلْفَصْلُ