تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 430

میں پیدا ہوتے ہیں جب کوئی سمجھ لے کہ میرے بُرے اعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا تو وہ ہمیشہ عاجل فائدہ کو مقدم کر لیتا ہے اور بُرائیوں میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔اگر ہر فرد اور قوم کو اپنا انجام یا د رہے تو یہ حالت کبھی پیدا نہ ہو۔مگر افسوس اسی یقینی سبق سے بھی دنیا فائدہ نہیں اٹھاتی۔افراد اپنے اعمال سے برباد ہوتے ہیں۔اقوام اپنے اعمال سے بربادہوتی ہیں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے پہلے لوگوں کی تباہی اور بربادی کے نظّارے ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے بار بار افراد اور اقوام اس کے خلاف چل کر تباہ ہو جاتی ہیں۔جیسے کہانیوں میں مقناطیس کے پہاڑ کا ذکر آتا ہے کہ جب جہاز اُس کے قریب پہنچتا تھا تو وہ رُک نہیں سکتا تھا جب تک اُس سے ٹکرا کر پاش پاش نہ ہو جاتا۔اسی طرح معلوم ہوتاہے یَوْمُ الدِّیْنکی تکذیب اور انجام کو بھول جانا روائتی مقناطیس کا پہاڑ ہے کہ اُس کے سامنے آکر انسانی یا قومی زندگی کا جہاز مقابلہ کر ہی نہیں سکتا ضرور اُدھر کھنچا چلا جاتا ہے اور آخر اُس سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتا ہے۔درحقیقت ظالموں کو تباہ کرنے کا خدا تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا ہے کہ وہ یَوْمُ الدِّیْن کو بھول کر اپنے ظلم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور آخر اُسی ظلم کی چٹان سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے کافر کی جہنم اُس کے قلب اور دماغ میں ہی پیدا کی ہوئی ہوتی ہے اور آخر ایک دن اُس کو تباہ کرنے کا اسی میں سے سامان پیدا ہو جاتا ہے۔وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ۰۰۱۳ اور اس کا انکار نہیں کر سکتا مگر وہی جو حد سے نکلا ہوا (اور) سخت گنہگار ہو۔حَلّ لُغَات۔اِعْتِدَاء اِعْتِدَاء کے معنے ظلم کرنے اور حد سے نکل جانے کے ہوتے ہیں چنانچہ اِعْتَدَیٰ عَلَیْہِ اِعْتِدَاءً کے معنے ہوتے ہیں ظَلَمَہٗ۔اُس نے فلاں پر ظلم کیا (اقرب ) مُعْتَدٍ۔اِعْتَدیٰ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اس لئے مُعْتَدٍ کے معنے ہوں گے ظلم کرنے والا۔اَثِیْمٌ۔اَثِیْمٌ اَثِمَ سے اسم فاعل کا مبالغہ کا صیغہ ہے اور اَثِمَ کے معنے عَمِلَ مَالَا یَحِلُّ کے ہوتے ہیں یعنی اس نے ایسا کام کیا جو جائز نہیں تھا اور وضعِ لُغت کے لحاظ سے اَثِمَتِ النَّاقَۃُ الْمَشْیَ اِثْمًا کے معنے ہوتے ہیں اَبْطَأَتْ (اقرب) اونٹنی سُست چلی۔پس اَثِیْمْ وہ ہوا جس نے وہ کام جو کرنا تھا نہ کیا۔گویا اِثْم کا لفظ کمی پر دلالت کرتا ہے اور اِعْتِدَاء کا لفظ زیادتی پر دلالت کرتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے تَکْذِیْبُ یَوْمُ الدِّیْنِ کے متعلق جو بات ہم نے بیان کی ہے وہ ایسی نہیں کہ ہم یونہی ظلماً کر دیتے ہوں۔یوم الدین کو بھول جانا کوئی اتفاقی امر نہیں ہوتا اور پھر یہ بھی نہیں کہ ہم نے اُن کو علم نہ دیا ہو ہم نے