تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 428
کہ فَكُّ رَقَبَةٍ۔اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ۔يَّتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۔اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ(البلد:۱۳ تا ۱۷) یعنی عقبہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ گردن کا غلامی یا قرض کے پھندے سے چھڑا دینا یا بھوک کے دن قرابت دار یتیم کو یا خاک افتادہ مسکین کو کھانا کھلانا (۹)اسی طرح اس بات کو حل کرنا تھا کہ مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِ یعنی لیلۃ القدر کی کیا شان ہے۔اِس لئے اس کے آگے جواب دے دیا کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۔تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ۔سَلٰمٌ١ۛ۫ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر:۳ تا ۶) یعنی لیلۃ القدر خیر وبرکت میں ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے اس لیلۃ القدر میں ہر ایک انتظام کے لئے فرشتے اور روح خدا تعالیٰ کے حکم سے اُترتے ہیں اور وہ رات امن و سلامتی کی رات ہے اور یہ خیرو برکت صبح کےطلوع ہونے تک رہتی ہے۔(۱۰)اسی طرح سورۂ قارعہ میں مَا الْقَارِعَۃُ کہہ کر اس کے جواب میں فرمایا يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ۔وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ (القارعۃ:۴ تا ۶) یعنی قارعہ سے ہماری مراد ایک عظیم الشان حادثہ ہے اور جب وہ آئے گا اُس دن لوگ ایسے پڑے ہوئے ہوں گے جیسے پَردار چونٹیاں اور پہاڑ دُھنکی ہوئی رُوئی کی طرح ہوں گے (۱۱) پھر اسی سورۃ میں وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَہْ کہہ کر ھَاوِیَۃ کے بارے میں سوال کیا تھا اس کا یہ جواب دیا کہ نَارٌ حَامِیَۃٌ یعنی ہاویہ ایک شعلے مارنے والی آگ ہے (القارعۃ:۱۱،۱۲)(۱۲) پھر سورۂ ہُمزہ میں فرمایا وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ اور اس کا یہ جواب دیا کہ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ۔الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ (ھمزہ:۶تا۸) یعنی حطمہ سے مراد اللہ کی وہ جلائی ہوئی آگ ہے جو داخل ہونے والوں کے دلوں کو جھانک رہی ہے۔مَاۤ اَدْرٰىكَ کے بعد کسی سوال کے جواب کا ذکر ہوتا ہے اور مَاۤ یُدْرِیْكَ کے بعد جواب کو مبہم رکھا جاتا ہے پس قرآن کریم میں جہاں بھی مَاۤ اَدْرٰىكَ کا ذکر آیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی سوال کا ضرور جواب دیا ہے۔لیکن اس کے بالمقابل وَمَایُدْرِیْکَ کے جواب میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے بات کو لَعَلَّ سے شروع کیا ہے اور جواب کو مبہم اور ذو الوجوہ رکھا ہے۔چنانچہ سورۂ شوریٰ میں فرمایا وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ پھر احزاب میں فرمایا وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوْنُ قَرِیْبًا اور عبس میں فرمایا وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰٓی۔گویا تینوں جگہ لَعَلَّ کا لفظ رکھا۔دو جگہ توساعت کا ذکر کرکے فرمایا کہ تم نہیں جانتے وہ کب آنے والی ہے۔اُس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اپنے بندو ں کو اس کا علم نہیں دے سکتا۔تیسری جگہ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰٓی کہہ کر پھر وہی صورت اختیار کی گئی ہے جو اوپر کے دو مقامات میں اختیار کی گئی تھی۔لیکن مَاۤ اَدْرٰىكَ جہاں جہاں کہا گیا ہے وہاں سوال کا معیّن جواب دیا گیا ہے۔