تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 424
عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جگہ صاف طور پر فرماتا ہے کہ سجّین کتابِ مرقوم ہے مگر بعض مفسر کہتے ہیں کہ یہ سات زمینوں کے نیچے ایک چٹان ہے یا شیطان کے کلّوں کو سجّین کہا گیا ہے۔جہاں خدا تعالیٰ نے کوئی بات نہیں بتائی وہاں تو وہ جو چاہیں کہہ جائیں مگر جہاں خدا تعالیٰ سجّین کے معنے بتا رہا ہے وہاں بھی یہ کہنا کہ اس کے معنے وہ نہیں جو قرآن نے بتائے ہیں بلکہ اس کے کچھ اَور معنے ہیں بہت بڑی غلطی ہے حالانکہ لُغت میں سجّین کے معنے موجود ہیں اور کتاب کے معنے بھی موجود ہیں۔سجّین کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے معنے دائم اور شدید کے ہیں اور کتاب کے متعلق لکھا ہے مَا یُکْتَبُ فِیْہِ۔یعنی لکھی ہوئی تصنیف (۲)اَلدَّوَاۃُ۔دوات (۳)اَلتَّوْرَاۃُ۔تورات (۴)اَلصَّحِیْفَۃُ۔صحیفہ (۵)اَلْفَرْضُ۔فرض (۶)اَلْحُکْمُ۔حکم (۷)اَلْقَدَرُ۔قضاءآسمانی۔اندازہ (۸)وَفِی الْمِصْبَاحِ ’’وَ یُطْلَقُ الْکِتَابُ عَلَی الْمُنَزَّلِ‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب (اقرب) ان معنوں کے لحاظ سےاِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ کا ایک تو یہ مفہوم ہو گا کہ فُجَّار کے متعلق ہمارا جو حکم ہے وہ سجّین نامی کتاب میں ہے۔دنیا میں بھی کتابوں کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس رجسٹر میں ان کا ذکر کیا گیا ہے اس کا نام سجّین ہے یعنی ان فجّار کا جو اعمال نامہ ہو گا اُس پر یہ ہیڈینگ ہو گا کہ ان کے ساتھ معاملہ دائمی اور سخت کیا جائے گا کیونکہ سجّین کے معنے دائم کے بھی ہیں اور شدید کے بھی۔اور اگر کتاب کے معنے اَلْقَدَرُ کے لیں تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ اُن کے متعلق ایک ایسا اندزہ کیا گیا ہے جو لَفِیْ سِجِّیْنٍ حالت دائمی اور شدّت میں ہو گا۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ اور یہ حالت دائمی اور شدّت کیا چیز ہے كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا فیصلہ ہے جو لکھا ہوا ہے یعنی وہ ٹلے گا نہیں پس کِتٰبُ الْفُجَّارِ کے معنے ہوئے قَضَائُ اللّٰہِ فِی حَقِّ الْفُجَّارِ یا حُکْمُ اللّٰہِ فِیْ حَقِّ الْفُجَّارِ یا قَدَرُ اللّٰہِ فِیْ حَقِّ الْفُجَّارِ یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ فجّار کے حق میںسجّین میں ہے یعنی اس دفتر میں ہےجس میں دائمی اور شدید عذاب والوں کا ذکر ہے ان معنوں کو جو لغت کے لحاظ سے ثابت شدہ ہیں اگر لے لیا جائے تو اس امر کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ شیطان کے کلّے کو چیر چیر کر اُس میں کفار کے نامۂ اعمال کو رکھا جائے یا زمین کے نیچے چٹانیں تلاش کی جائیں یہ سب بے معنی اور لغو باتیں ہیں۔قتادہ۔سعید بن جبیر۔مقاتل اور کعب کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا سجّین ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے اُسے ہٹا کر اُس کے نیچے کتابِ فجار رکھی جاتی ہے۔اس صورت میں وہ کہتے ہیں کہ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ میں حذفِ مضاف ہے اور مراد یہ ہے کہ سِجِّیْنٌ مَّحَلُّ کِتَابٍ مَّرْقُوْمٍ ہے یعنی کفار کے اعمال ناموں کی جگہ سجّین ہے مگر ابوعبیدہؔ اور اخفشؔ اور مبرّدؔ اور زجّاجؔ جیسے نحویوں اور ادیبوں نے جن میں سے ابو عبیدہ اور مبرّد ادب کے