تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 422
مَرْقُوْمٌ:مَرْقُوْمٌ رَقَمَ سے اسم مفعول ہے اور رَقَمَ الْکِتَابَ کے معنے ہیں اَعْجَمَہٗ وَ بَیَّنَہٗ۔اس نے کتاب کو لکھا اور اس پر زیرزبر لگائی۔اور رَقَمَ الثَّوْب کے معنے ہوتے ہیں خَطَّطَہٗ وَاَعْلَمَہٗ۔اس نے کپڑے پر دھاریاں بنائیں اور نشان لگائے۔نیز کہتے ہیں فُلَانٌ یَرْقَمُ فِی الْمَآئِ یُضْرَبُ مَثَلًا لِلْحَذِقِ فِی الْاُمُوْرِ یعنی فلاں شخص معاملات میں بڑا حاذق ہے۔(اقرب) ضحاک کہتے ہیں کہ مَرْقُوْم کے معنے لغت حمیر میں مختوم کے بھی ہیں یعنی جس پر مُہر لگی ہوئی ہو۔وَاَصْلُ الرَّقْمِ: اَلْکِتَابَۃُ اور یہ کہ رقم کے اصل معنے کتابت کے ہیں۔(فتح البیان) تفسیر۔اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍکے متعلق ایک اشکال اور اس کی تشریح یہاں بعض لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کِتَابُ الْفُجَّارِ فِیْ کِتَابٍ مَّرْقُوْمٍ کے معنے ہی کیا ہوئے؟ یعنی بتایا یہ گیا ہے کہ کتابِ فجارسجّین میں ہے اور پھر سجّین کی یہ تشریح کی گئی ہے کہ وہ کتابِ مرقوم ہے گویا دوسرے الفاظ میں اس کامطلب یہ ہوا کہ فجّار کی کتاب۔کتاب میں ہے اور یہ ایک ایسا فقرہ ہے جو بالکل بے معنی ہے جس کا کوئی مفہوم ہی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔علامہ زمخشری نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے اور پھر اپنی کتاب میں انہوں نے اس کا جواب بھی دیا ہے چنانچہ وہ کشافؔ میں لکھتے ہیں سجّین عام ہے اور کتاب الفجّار اس کا ایک باب ہے یعنی سجّین وہ کتاب ہے جس میں مشرک۔کافر۔منافق۔فجّار سب کے اعمال لکھے جاتے ہیں اور اسی کو بغیر کسی قید کے کتاب مرقوم کہا گیا ہے کیونکہ اس میںہر برے آدمی کا ذکر ہے ( الکشاف زیر آیت ھذا)خواہ وہ فاجر ہو یا منافق ہو یا کافر ہو یا مشرک ہو لیکن کتاب الفجار میں صرف ایک خاص قسم کے گروہ کی شرارتوں ا ور ان کی بداعمالیوں کا ذکر ہے اور بتایا یہ گیا ہے کہ کتابِ فجّار بھی کتابِ سجّین میں شامل ہے گویا جزو کو کل کی طرف منسوب کیا گیا ہے پس اُن کے نزدیک کتاب الفجار میں جو کتاب کا لفظ آیا ہے وہ باب کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور کتاب مرقوم میں جو کتاب کا لفظ ہے وہ زیادہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ فجّار کا اعمال نامہ کتاب مرقوم کا ایک حصہ اور باب ہے۔الواحدیؔ کہتے ہیں کہ کتابِ مرقوم کو سجّین کی تفسیر قرار دینا درست نہیں کیونکہ روایات سے سجّین کتاب معلوم نہیں ہوتی اس لئے کتابٌ مرقوم کو اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ کا بیان سمجھنا چاہیے اور جملہ کی تقدیر یوں سمجھی جائے کہ ھُوَ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ۔( فتح البیان زیر آیت ھذا)گویا وہ لَفِيْ سِجِّيْنٍ۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ کو درمیان میں ایک جملۂ معترضہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں اصل فقرہ صرف اتنا ہے کہ اِنَّ کِتَابَ الْفُجَّارِ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ مگر یہ معنے درست نہیں ہیں کیونکہ اس صورت میں سِجِّیْن بلاتفسیر رہ جائے گا جو محاورۂ قرآنی کے خلاف ہے۔