تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 412

بِہٖ یعنی میں نے اس شخص پر فلاں شخص کا اندازہ اور قیاس کیا اور کہتے ہیں کَالَ الْفَرَسُ بِغَیْرِہٖ: قَاسَہٗ بِہٖ فِی الْـجَرْیِ (اقرب) یعنی گھوڑا دیکھا۔اس کی دَوڑ دیکھی اَور پھرقیاس کِیا کہ فلاں گھوڑا زیادہ اچھا ہے کیونکہ اس کی دوڑ اچھی ہے اور فلاں گھوڑا کمزور ہے کیونکہ اس کی دوڑ خراب ہے، گویا ظاہری ماپ تول کے علاوہ باطنی اندازہ بھی اس سے استعارۃً مراد لے سکتے ہیں۔تفسیر۔میسحی اقوام کا وزن اور کیل میں غیر اقوام کو لوٹنا اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ جب یہ کسی قوم کو ماپ کر دیتے ہیں یا اسے وزن کر کے دیتے ہیں تو اس میں ہمیشہ دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یعنی ظاہری شکل ماپ اور تول کی ہو گی اور وہ دوسرے کو یہی دکھائیں گے کہ ہم تمہیں جو کچھ دے رہے ہیں۔ماپ تول کر دے رہے ہیں اور اندازہ کے مطابق بالکل صحیح صحیح دے رہے ہیں۔نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسروں کو نقصان ہو گا اور اِن کو فائدہ ہو گا۔یہ خرابی ایسی ہے جو خصوصیت کے ساتھ مسیحیوں میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ وزن کو لیں تب بھی یہ قوم دوسروں کو لوٹتی ہے اور کَیل کو لیں تب بھی یہ قوم دوسروں کو لوٹتی ہے اس قوم کو بڑا غلبہ تجارت سے حاصل ہوا ہےاور تجارت میں یہ لوگ حد درجہ کی چالاکی اور ہوشیاری سے کام لیتے ہیں۔جہاں تک انفرادی تجارت کا سوال ہے یوروپین لوگوں میں سے سو میں سے ایک بھی دھوکا نہیں کرے گا بلکہ ہزار میں سے ایک بھی دھوکا نہیں کرے گا۔اس کے مقابلہ میں ایشائی لوگوں کی یہ حالت ہے کہ سو میں سے ننانوے دھوکا کریں گے بلکہ ننانوے کیا سو میں سے سو ہی دھوکاباز ہوں گے۔ہزار میں سے ایک شاید کوئی ایسا نکل آئے جو انفرادی تجارت میں دھوکا بازی نہ کرے لیکن بالعموم ایشائی اس پہلو میں نہایت بُرا نمونہ دکھاتے ہیں۔اگر چیز کو تولتے ہوئے وہ تھوڑی سی بے ایمانی نہ کر لیں اور دوسرے کو کسی قدر کم چیز نہ دیں تو ان کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے اور وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ڈنڈی مار کر ہم کچھ فائدہ اٹھا لیں۔پس جہاں تک انفرادی تجارت کا سوال ہے یوروپین لوگوں کا نمونہ اس بارہ میں نہایت اعلیٰ ہے مگر جب قومی تجارت کا سوال آ جائے تو یہ قوم اتنی لوٹ کرتی ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں ایسے کئی واقعات ہیں کہ انہوں نے کروڑوں کروڑ روپیہ کا سامان اور توپیں وغیرہ غیر ملکوں کو بنا کر دئے۔مگر نہ وہ توپیں اچھی تھیں نہ وہ جہاز اچھے تھے نہ وہ سامان اچھا تھا۔بالکل ردّی اور گندہ سامان انہوں نے بھجوا دیا اور کروڑوں کروڑروپیہ وصول کر لیا۔بے شک خوردہ فروشی میں ان کی دیا نت سےکوئی لگّا نہیں کھا سکتا۔لیکن جہاں بڑی تجارت کا سوال آ جائے وہاں اس قدر لُوٹ مچاتے ہیں کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ملکوں کے ملک غارت کر جاتے ہیں اور تجارت میں پالیٹکس کو شامل کر دیتے ہیں۔پس