تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 407

سکتا تھا کہ جب وہ سودا کرتے ہیں تو اپنا حق پوری طرح لے لیتے ہیں مگر اُس نے یہ نہیں کہا بلکہالَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ۔وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ سارا معاملہ ان لوگوں کے اپنے ہاتھ میں ہو گا اور فیصلہ کا اختیار صرف اُنہی کو حاصل ہو گا خواہ انہوں نے لوگوں سے حق لینا ہویا انہوں نے لوگوں کا حق دینا ہو چنانچہ آج واقعات اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔کوئی معاملہ ہو فیصلہ کا اختیار انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔چنانچہ ہندوستان کی آزادی کا سوال ہی لے لو یہ نہیں ہو سکتا کہ ہندوستانی لیڈر آپس میں بیٹھ کر کوئی فیصلہ کر سکیں۔انگریز یہی کہتے ہیں کہ بیشک تم اکٹھے ہو کر غور کرو مگر تمہارا آخری کام یہ ہو گا کہ اپنے مطالبات کو ہمارے سامنے پیش کرو پھر ہمارا ختیار ہو گا کہ ہم اُن میں سے جس مطالبہ کو چاہیں منظور کریں اور جس مطالبہ کو چاہیں ردّ کر دیں۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ اس قوم کو دنیا پر ایسا غلبہ حاصل ہو گا کہ لوگوں کوحقوق دینے یا اُن سے اپنے حقوق لینے کا تمام اختیار انہی لوگوں کو حاصل ہو گا۔دنیا میں گاہک اپنی جگہ اختیار کھتا ہے اور تاجر اپنی جگہ اختیار رکھتا ہے لیکن یہ اگر گاہک ہوں گے تب بھی کہیں گے کہ تمہیں تولنے کا اختیار نہیں۔چیز تول کر ہم خود لیں گے اور اگر یہ تاجر ہوں گے تب بھی یہ کہیں گے کہ جو کچھ ہم مانگتے ہیں وہ تم دو اس سے کم ایک پائی بھی لینے کے لئے ہم تیار نہیں ہیں۔غرض تمام اختیارات لینے اور دینے کے ان کو حاصل ہوں گے دوسروں کا اختیار نہیں ہو گا کہ وہ اس میں دخل دے سکیں۔اس اعتراض کا جواب کہ حق کا پورا لینا تو انصاف پر دلالت کرتا ہے لیکن پھر یَسْتَوْفُوْنَ کیوں فرمایا یہاں اللہ تعالیٰ نے یَسْتَوْفُوْنَ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے معنے پورا لینے کے ہیں (اقرب)اور پورا لینا بظاہر انصاف پر دلالت کرتا ہے لیکن درحقیقت اس جگہ یَسْتَوْفُوْنَ الْحَقَّ مراد نہیں یعنی یہ مطلب نہیں کہ جتنا ان کا حق تھا وہ لیتے ہیں بلکہ یَسْتَوْفُوْنَ الْمُطَالَبَۃَ ہے یعنی جتنا مانگتے ہیں اتنا لے کر چھوڑتے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس جگہ اُن کی برائی ہو رہی ہے تعریف نہیں۔اور بُرائی کا پہلو یہی ہے کہ لے تو زیادہ لے اور دے تو کم دے۔پس یَسْتَوْفُوْنَ سے مراد حق پورا لینا مراد نہیں بلکہ اپنا مطالبہ پورا لینا مراد ہے ہاں بطور تنزل یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ حق پورا لیتے ہیں کبھی دوسرے پر رحم نہیں کرتے اور اپنے حق کا کوئی حصہ معاف نہیں کرتے یعنی روائتی شائیلاک کا سا سلوک کرتے ہیں۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ اس جگہ اِکْتِیَال کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنے ترازو اپنے ہاتھ میں لے کر خود تول کر لینے کے ہوتے ہیں یہ نہیں کہ کوئی دوسرا تول کر دے۔ان لفظوں کے استعمال سے بھی ظاہر ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا حق لیتے ہیں اور دوسرے کا کوئی دخل اس میں آنے نہیں دیتے۔