تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 398
اس آیت میں یہی خبر دی گئی ہے کہ آخر وہ بادشاہت قائم ہو جائے گی۔حق آ جائے گا اور باطل بھاگ جائے گا۔اس طرح وہ مایوسی جو پہلی آیتوں کے مطالعہ سے دلوں میں پیدا ہو سکتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو دُور کر دیا اور مومنوں سے کہہ دیا کہ ڈرو نہیں۔قرآن کا زمین سے اٹھ جانا۔ایمان کا ثریّا پر چلا جانا۔کفر کا دنیا پر غالب آ جانا۔شرک اور معصیت کا لوگوں میں پھیل جانا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا روشن چہرہ لوگوں سے اوجھل ہو جانا۔صحابہؓ کی اتباع کا شوق دلوں سے جاتے رہنا تمہارے دلوں میں مایوسی مت پیدا کرے۔ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ اَلْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ۔گو عیسائی فتنہ بڑا سخت ہے۔مگر ہم قرآن اور اسلام کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے اس فیصلہ کو بدل نہیں سکتی۔ہم پھر اسلام کو قائم کریں گے۔پھر قرآن کو قائم کریں گے۔پھر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حکومت ساری دنیا میںقائم کریں گے۔اس لئے تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔تمہارے لئے مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔بلکہ خوشی اور مسرّت کا مقام ہے۔کہ اسلام پھر اپنی گم گشتہ عزت کو حاصل کرے گا۔اور ساری دنیا پر غالب آ جائے گا۔خ خ خ خ