تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 396
لیگ آف نیشنز بنائی جا رہی ہے۔اور کہیں اس آگ کو فرو کرنے کے لئے اَور تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔مگر یہ سب تدابیر رائیگاں جائیں گی۔سب کوششیں اکارت ثابت ہوں گی۔یہ اس دن سے غائب ہونا چاہیں گے مگر غائب نہیں ہو سکیں گے۔اپنا سارا زور اس بات پر صرف کریں گے کہ اس جہنم سے بچ جائیں مگر بچ نہیں سکیں گے۔جو کوشش بھی اس غرض کے لئے کریں گے الٹ پڑے گی اور وہ انہیں اور زیادہ اس جہنم کی طرف دھکیل کر لے جائے گی جس میں داخل ہونا ان کے لئے مقدّر ہو چکا ہے۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِۙ۰۰۱۸ اور (اے مخاطب) تجھے کس نے اس بات کا علم دیا ہے کہ جز ا سزا کا وقت کیا ہے۔ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِؕ۰۰۱۹ پھر (ہم تجھے کہتے ہیں کہ) تجھے کس نے علم دیا ہے کہ جزا سزا کا وقت کیا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے کس نے تم کو بتایا کہ یَوْمُ الدِّیْنِ کیا چیز ہے۔ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ پھر ہم کہتے ہیں۔کس نے تم کو بتایا کہ یَوْمُ الدِّیْنِ کیا چیز ہے؟ مَاۤ اَدْرٰىكَ کا لفظ قرآن کریم میں جس مقام پر بھی دوہرایا گیا ہے وہاں اس بات کی تشریح کرنے کے لئے اسے دوہرایا گیا ہے جس کا اس مقام پر ذکر آتا ہے۔یہاں چونکہ يَوْمُ الدِّيْنِ کا بیان ہے۔اس لئے ایک دفعہ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ کہنے کے بعد ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ کہنا صاف طور پر بتا رہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اس جگہ جس يَوْمُ الدِّيْنِ کا ذکر کر رہے ہیں اس سے کیا مراد ہے۔یعنی يَوْمُ الدِّيْنِ تو کئی ہیں۔سوال یہ ہے کہ اِن آیات میں ہم نے جس يَوْمُ الدِّيْنِ کا ذکر کیا ہے اس سے ہماری مراد کیا ہے۔ورنہ اگر مَاۤ اَدْرٰىكَ کا دوبارہ آنا تشریح کے لئے نہ ہو تو پھر اس کے دوہرانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہو سکتا۔کیوں کہ پہلے جو کچھ بتایا ہے وہ بھی خدا نے ہی بتایا ہے۔انسان نے خود تو معلوم نہیں کیا۔اور جب وہ بھی خدا نے بتایا ہے تو یہ کہنا کہ تجھے کیا پتہ کہ يَوْمُ الدِّيْنِ کیا ہے۔اپنے اندر کوئی معنے نہیں رکھ سکتا۔یا تو پہلی باتیں انسان نے خود معلوم کی ہوتیں۔تو کہا جا سکتا تھا کہ پہلی باتیں تو تمہیں معلوم تھیں اب تمہیں کیا پتہ کہ يَوْمُ الدِّيْنِ کیا چیز ہے۔مگر جب اِن باتوں کا علم بھی انسان کو خدا تعالیٰ کے بتانے کے بعد ہوا۔تو اس بات کا علم بھی خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر کس طرح ہو سکتا ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے۔کہ