تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 36

میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ ہر چیز کے لئے خدا نے کوئی جواب رکھا ہے۔سورج آسمان پر گرم ہے زمین پر اُس کا اثر پڑتا ہے تو وہ نشوونما اور روئیدگی کے لئے تیا ر ہوتی ہے پھر وہی سورج جو ایک طرف زمین کو روئیدگی کے لئے تیار کرتا ہے اپنی گرمی سے زمین کے بخارات کو اوپر اٹھاتا ہے اور اس طرح سورج کے وَھَج کے نتیجہ میں وہ بخارات بادل بن کر زمین پر برسنا شروع ہو جاتے ہیں۔سبب اور مسبّب کا یہ سلسلہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کائناتِ عالم میں جاری کیا ہوا ہے بیہودہ اور لغو نہیں ہو سکتا۔ضرور ہے کہ اس کا کوئی عظیم الشان نتیجہ نکلے مگر وہ نتیجہ اس دنیا میں نہیں نکل رہااس لئے لازماً کسی اور زندگی کو ماننا پڑے گا جہاں ان عظیم الشان کاموں کا کوئی نتیجہ نکلے اور انسان کہہ سکے کہ اللہ تعالیٰ نے جس سلسلۂ کائنات کی بنیاد رکھی تھی وہ لغو نہیں تھا۔آیت وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ میں غلبہ اسلام کی پیشگوئی قرآن مجید اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف اِن آیات میں اس رنگ میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ قرآن مجید اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں تم کو بُری لگتی ہیں تم کہتے ہو کہ انہوں نے دنیا میں آکر فساد مچا دیا۔تم کہتے ہو کہ جب سے یہ ظاہر ہوا ہے جھگڑے اور لڑائیاں شروع ہو گئی ہیں ایک شور ہے جو اس کی وجہ سے مچ ر ہا ہے۔باپ بیٹے سے جدا ہو گیا ہے۔بیٹا باپ سے جدا ہو گیا ہے۔ماں لڑکی سے علیحدہ ہو گئی ہے اور لڑکی ماں سے علیحدہ ہو گئی ہے۔بھائی بھائی سے علیحدہ ہو گیا ہے اور دوست دوست سے جدا ہو گیا ہے گویا تمہیں اس کے آنے کی وجہ سے ایک گرمی سی محسوس ہونے لگی ہے جیسے سورج کے نکلنے سے ایک گرمی سی محسوس ہونے لگتی ہے مگر فرماتا ہے بیشک تمہیں آج اس کی وجہ سے گرمی محسوس ہونے لگی ہے مگر یہی گرمی ایک دن تمہارے لئے رحمت کا بادل ثابت ہو گی اِس گرمی سے تمہاری اندرونی قابلیتوں کو اُبھارا جا رہا ہے۔تمہارے اندر نئی قابلیتیں پیدا کی جارہی ہیں مگر تم ابھی اس کو محسوس نہیں کر سکتے بلکہ تم اس تغیّر پر تکلیف محسوس کرتے ہو جیسے ڈاکٹر جب اپریشن کرنے لگتا ہے اُس کا چاقو انسان کو چُبھتا ہے لیکن آخر وہی چاقو جس سے اُس نے تکلیف محسوس کی تھی اُس کی صحت اور آرام کا موجب بن جاتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے بے شک محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے تم ایک بے چینی اور تکلیف سی محسوس کر رہے ہو۔مگر یہی وَھَج اور یہی گرمی اوریہی تپش اور یہی روشنی تمہاری راحت اور آرام کا موجب ہو گی۔جس طرح سورج کی گرمی بادلوں کو اُٹھا کر لاتی اور زمین پر پانی کی صورت میں اُن کو برسا دیتی ہے اسی طرح ایک دن اسی وَھَج سے تمہارے دلوں میں ایمان اور عرفان کی بدلیاں اُٹھنے لگیں گی اور تمہارے دلوں سے علم و عرفان کے وہ سوتے پُھوٹ پڑیں گے جن کا پانی ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔مجھے یہاں مَآءً ثَجَّاجًا کے الفاظ سے اپنا وہ خواب یاد آگیا جو تھوڑے ہی دن ہوئے مَیں نے دیکھا تھا اور جس میں مجھے انسانی