تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 391
رب کریم کو چھوڑ کر اُس کی دی ہوئی طاقتوں کو استعمال کرو گے تو راستہ سے بھٹک ہی جائو گے اور ایک دن اس کے بد انجام کو دیکھ لو گے۔وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ۰۰۱۱كِرَامًا كَاتِبِيْنَۙ۰۰۱۲ اور یقیناً تم پر (تمہارے خدا کی طرف سے) نگران مقرر ہیں (جو) شریف (اور) ہر بات کو لکھنے والے (ہیں) يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۱۳ تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔تفسیر۔اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَمیں اعمال محفوظ کئے جانے کی طرف اشارہ قرآن کریم کے بعض دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی اعمال کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔اور فرشتے اس کام پر مقرر ہیں احادیث صحیحہ میں بھی اِس کا ذکر آتا ہے پس وہ تو ہے ہی اور اس میںمسلمانوں کی کوئی تخصیص نہیں عیسائیوں کے اعمال بھی لکھے جاتے ہیں۔یہودیوں کے اعمال لکھے جاتے ہیں۔زرتشتیوں کے اعمال بھی لکھے جاتے ہیں اور اسی طرح دوسری اقوام کے اعمال بھی لکھے جاتے ہیں۔غرض ہر کافر، دیندار، مومن ، مشرک سب کے اعمال محفوظ رکھے جاتے ہیںاور قیامت کے دن وہ ہر انسان کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔اب وائرلیس کی ایجاد نے قرآن کریم کے اس بیان کی صحت کا مزید ثبوت بہم پہنچا دیا ہے کیونکہ وائرلیس کی ایجاد نے ثابت کر دیا ہے کہ ہر حرکت جو انسان کرتا ہے خواہ وہ خفیف سے خفیف تر کیوں نہ ہو سارے جوّ میں پھیل جاتی ہے پس اس سے اتنا پتہ لگ گیا کہ انسان جو بھی حرکت کرتا ہے وہ فور ی طور پر جوّ میں لکھی جاتی ہے لکھے جانے کے معنے یہی ہیں کہ وہ اُدھر منتقل ہو جاتی ہے۔اب صرف یہ سوال رہ گیا ہے کہ وہ حرکت یا وہ آواز جوّ میں کتنی دیر تک محفوظ رہتی ہے۔مجھے ہمیشہ امید رہتی ہے کہ ممکن ہے کوئی زمانہ ایسا بھی آجائے کہ ہم گزشتہ لوگوں کی آوازوں کو کسی آلہ کے ذریعہ سے سُن سکیں مثلاً ہم نپولین کے مُنہ سے اس کی باتیں سُن لیں یا اگر پچھلے لوگوں کی باتوں کو ہم نہ سن سکیں تو آیندہ کے لئے ہی کوئی ایسا انتظام ہو جائے کہ ہم اُن آوازوں کو جو جوّ میں منتقل ہو جائیں دو دن چار دن دس دن کے بعد سُن سکیں۔ریڈیو اور فونو گراف دونوں مل کر اب بھی یہ کام کرتے ہیں چنانچہ بادشاہ تقریر کرتا ہے تو وہ تقریر دو دو چار چار دن کے بعد دوسرے ملکوں میں سنا دی جاتی ہے تو وائرلیس اور فونو گراف دونوں نے مل کر قرآن کریم کی اِس بیان کردہ صداقت کا ثبوت مہیا کر