تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 385

درجہ کی مادی ترقیات ہیں اور یہ ترقیات اُن کو اس وجہ سے حاصل ہوئیں کہ انہیں اسلامی علوم بیج کے طور پر مل گئے تھے جن پر وہ اور عمارت بنا کر ترقّی کر گئے۔مسلمانوں کو یونانی علم ملا تھا جس پر مزید تحقیق کر کے وہ ترقی کر گئے اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا علم مل گیا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ ترقی کر جاتے۔جب انہیں ترقی حاصل ہوئی تو ان کے دماغ میں غرور پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ جو ایجادات ہم نے کی ہیں وہ اب تک اور کسی قوم نے نہیں کیں اس طرح انہیں اپنی ترقیات کے متعلق فخر پیدا ہو گیا حالانکہ یہ اشیاء تو اُنہیں اور بھی اللہ تعالیٰ کی طرف جُھکانے والی ہونی چاہیے تھیں۔الَّذِيْ خَلَقَكَ کہہ کر عیسائیوں کو توحید کی طرف متوجہ کرنا الَّذِيْ خَلَقَكَ کہہ کر اللہ تعالیٰ عیسائیوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ تمہیں اس خدا کا تو خیال کرنا چاہیے تھا جس نے تمہیں پیدا کیا۔بائبل میں لکھا ہے ’’خدا نے ساتویں دن کو برکت دی اور اسے مقدّس ٹھہرایا۔کیونکہ اس میں خدا ساری کائنات سے جسے اس نے پیدا کیا اور بنایا فارغ ہوا۔یہ ہے آسمان اور زمین کی پیدائش جب وہ خلق ہوئے جس دن خدا وند خدا نے زمین اور آسمان کو بنایا‘‘ (پیدائش باب ۲ آیت ۳ تا ۵)پھر لکھا ہے’’اور کہو خدا وند ہمارا خدا ازل سے ابد تک مبارک ہے تیرا جلالی نام مبارک ہو جو سب حمد و تعریف سے بالا ہے تو ہی اکیلا خدا وند ہے تُو نے آسمان اور آسمانوں کے آسمان کو اور ان کے سارے لشکر کو اور زمین کو اور جو کچھ اس پر ہے اور سمندروں کو اور جو کچھ ان میں ہے بنایا اور تُو اُن سبھوں کا پروردگار ہے۔‘‘ (نحمیاہ باب ۹ آیت۵،۶)گویا آیت مذکورہ میں یہ توجہ دلائی ہے کہ جب وہی تمہارا خالق ہے تو تُم اس کی بادشاہت کو دوسروں کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔پھر خَلَقَکَ کے بعد سَوّٰکَ کہہ کر اسی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اس نے تم کو تمام معائب اور نقائص سے پاک بنایا ہے انسانی فطرت میں جس قدر کمزوریاں تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے اُن کا علاج بھی انسانی فطرت کے اندر ہی رکھ دیا ہے انسان پر بڑی بڑی مشکلات آتی ہیں مگر ساتھ ہی اُن مشکلات کو برداشت کرنے کا مادہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔بیماریوں کے جراثیم حملہ کر کے آتے ہیں تو اُن کا توڑ انسانی نفس میں پہلے ہی موجود ہوتا ہے اور کئی قسم کی بیماریاں ہیں جو اندر ہی اندر فنا ہو جاتی ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ جسمانی طور پر اس نے تمہارے علاج کے سامان تمہارے خون میں پیدا کئے ہیں اور روحانی اور اخلاقی علاج بھی تمہارے نفس میں پیدا کئے ہیں لیکن تمہاری نجات کے لئے اس نے ایک غیر طبعی طریقہ ایجاد کیا کہ ایک بے گنہ پھانسی پر لٹکا دیا تا تم کو نجات دلائے گویا وہ خون کا پیاسا ہے جب تک خون نہ پی لے کسی کو چھوڑتا نہیں۔العیاذ باللہ۔اسی طرح فَعَدَلَکَ فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ اس نے تمہارے نفس کی ہی اصلاح نہیں کی بلکہ تمہارے