تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 382

اے عائشہ کیا مَیں اس سے شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں۔تو دیکھو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے عثمانؓ کی شرم کا لحاظ کیا کہ وہ لوگوں سے شرماتے تھے آپ اُن سے شرمائے۔پھر ہم اس آیت سے یہ کس طرح مراد لے سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کریم ہونے نے لوگوں کو گناہوں پر جرأت دلائی تھی۔میرے نزدیک رب کریم کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو اپنے کریم خدا کی بات تو ما ننی چاہیے تھی نہ یہ کہ اُلٹا اس کی نافرمانی کرنے لگ جاتا۔آیت مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِمیں کریم کہہ کر عیسائیت کے عقائد پر چوٹ میرے نزدیک مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِمیں عیسائیت کی طرف نہایت لطیف پیرایہ میں اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ عیسائیت خدا تعالیٰ کے رحم پر بڑا زور دیتی ہے اور اُس کی بنیاد ہی اِس مسئلہ پر ہے کہ خدا محبت ہے۔خدامہربان ہے(یوحنا کا پہلا خط باب ۴ آیت۸ ،لوقا باب ۶ آیت ۳۵۔۳۶)۔گو تفصیلات میں وہ خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ بڑا ظالم بتاتے ہیںاور کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے گناہ معاف ہی نہیں کر سکتا۔مگر بہرحال وہ خدا تعالیٰ کی رحمت پر زور دیتے ہیں اور پھرساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو تم اللہ تعالیٰ کو کریم کہتے ہیں اور دوسری طرف ایسی صفات اُس کی طرف منسوب کرتے ہو جو اُس کے کریم ہونے کے خلاف ہیں اور تم اس کا ایک بیٹا تسلیم کرتے ہو اور کہتے ہوکہ اُس نے لوگوں کے گناہ معاف کرنے کی جب کوئی اور صورت نہ دیکھی تو اپنے بیٹے کو لوگوں کے گناہوں کے بدلہ میں قربان کر دیا(یوحنا کا پہلا خط باب ۴ آیت ۸ تا ۱۰)۔پس اس جگہ مومنوں کا ذکر نہیں بلکہ ایسے دشمن کا ذکر ہے جو ایک طرف خدا تعالیٰ کو رب کریم کہتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتا ہے کہ وہ گناہ معاف نہیں کر سکتا مجھے اِس وقت اچھی طرح یاد نہیں لیکن جہاںتک میرا خیال ہے عیسائی کتابوںمیں خدا تعالیٰ کے متعلق رحیم و کریم کا اکٹھا ذکر ہوتا ہے اور اگر نہ بھی ہو تب بھی کرم میں رحم شامل ہے بہرحال رب کریم کے الفاظ لا کر اس قوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ کو ایک طرف ربِّ کریم قرار دیتی ہے اور پھر دوسری طرف اُس پر اتّہام بھی لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ گنہ معاف نہیں کر سکتا۔فرماتا ہے اے انسان تجھے کس نے یہ جرأت دلائی کہ ایک طرف تو اسے رب کریم کہتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتا ہے کہ خدا گناہ معاف نہیں کر سکتا تھا اس وجہ سے اُس نے اپنے بیٹے کو صلیب پر قربان کر دیا۔